اترپردیش میں خاتون وکلاء پر حملوں کا سلسلہ جاری ، ایٹاہ میں ایک تنہا رہنے والی وکیل کا قتل

   

ایٹاہ۔ 6 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں خاتون قانون داں پر جان لیوا حملہ کا ایک واقعہ پیش آیا جسے اس کی رہائش گاہ میں گولی مارکر ہلاک کردیا گیا۔ ایٹاہ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سنجے کمار نے بتایا کہ سرکاری وکیل نوتن یادو کو دوشنبہ کی رات میں ان کے گھر میں گولی مارکر ختم کردیا گیا۔ سنجے کمار نے بتایا کہ 35 سالہ نوتن یادو غیرشادی شدہ تھیں اور تنہا رہا کرتی تھیں۔ ان کے گاؤں سے اکا دکا لوگ آتے اور ان کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے۔ انہیں دوشنبہ اور منگل کی درمیانی شب مردہ پایا گیا۔ ان کا تعلق ضلع آگرہ سے تھا۔ کمار کا کہنا تھا کہ جو لوگ ان کے گھر آیا جایا کرتے تھے، وہ شبہ سے بالاتر نہیں ہیں۔ ان کے خاندان کے افراد نے بھی ایسے لوگوں کے اس قتل میں ملوث ہونے سے انکار نہیں کیا ہے۔ ایٹاہ کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ ساومہل ممگینی نے دریں اثناء بتایا کہ خاندان کے کسی قریبی شناسا نے یہ کام انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ لوگوں کے خلاف کیس درج کرلیا گیا ہے اور کارروائی شروع کی جائے گی۔ تقریباً دو ماہ قبل اترپردیش بار کونسل کی صدر درویش یادو کو بھی آگرہ کی عدالت کے احاطہ میں گولی مارکر ہلاک کردیا گیا تھا۔ ایک اور واقعہ میں اترپردیش میں بھی خاتون قانون داں پر ہلاکت خیز حملے کئے گئے۔ سپریم کورٹ کی ایک 60 سالہ وکیل نوئیڈا میں 4 جولائی کو اپنے ہی بنگلے میں قتل کردی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ شوہر اور بیوی جو مقتول قانون داں کے گھر میں کام کیا کرتے تھے، مفرور ہیں اور اس کیس کے سلسلے میں انہیں پر شبہ کیا جارہا ہے۔ کلجیت کور بھی اپنے گھر میں اسی طرح مردہ پائی گئی کہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور ان کے منہ میں کپڑے کا ایک ٹکڑا ٹھونس دیا گیا تھا۔