اترپردیش میں سیلاب کا قہر جاری،متعد د گاؤں پانی سے محصور

   

لکھنؤ: اترپردیش کے مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق ریاست میں سیلاب کا قہر ہنوز جاری ہے اور متعدد گاؤں کی اہم شاہراہوں کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے تو کئی گاؤ ں ایسے ہیں جو چاروں طرف پانی سے گھر گئے ہیں۔اسٹیٹ ریلیف کمیشن کے مطابق 24اضلاع کے 605گاؤں سیلاب سے متاثر ہیں۔جن میں سے 110گاؤں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے جبکہ 20گاؤں مکمل طور سے چاروں طرف سے پانی سے گھر گئے ہیں۔علاوہ ازین پانی بھراو کی وجہ سے 107گاؤں اور 239 گاؤ ں کی زراعت اور 129گاؤ ں میں کھیتی و آبادی پر کافی اثر ہے ۔گنگاکچلا برج، بدایوں، پریاگ راج، مرزاپور، وارانسی، غازی پور اور بلیا میں جبکہ جمنا ندی اوریا، جالون، ہمیر پور، باندہ اور پریاگ راج میں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے ۔بتوا ندی ہمیر پور میں، شاردا ندی کھیری کے پلیا کلان،کوانون ندی گونڈہ کے چندرا دیپ گھاٹ اور چنبل ندی بھی مختلف مقامات پر خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے ۔ریلیف کمشنر رنویر پرساد نے بتایا کہ ریاست کے تمام باندھ محفوط ہیں۔اور سیلاب سے متاثرین کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے لئے ریاست میں 940ریلیف کیمپ بنائے گئے ہیں جبکہ سیلاب کے حالات کی نگرانی کے لئے 1125سیلاب پوسٹ بنائے گئے ہیں۔علاوہ ازیں 1463کشتیاں اور 504 میڈیکل ٹیم کو سیلاب متاثرہ علاقوں میں راحت رسانی کے کام پر معمور کیا گیا ہے ۔ابھی تک 536افراد کو محفوظ مقام پر شفٹ کیا گیا ہے اور 43اضلاع میں ریسکیو آپریشن کے لئے 59ٹیموں کو تعینات کیا گیا ہے۔ 9اضلاع میں این ڈی آر ایف، 11اضلاع میں ایس ڈی آر ایف اور 39اضلاع میں پی اے سی کو تعینات کیا گیا ہے ۔ گنگا میں طغیانی کی وجہ سے پوروانچل خطے کے مرزاپور، بھدوہی، وارانسی، بلیا، غازی پور اور چندولی میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے اور ان علاقوں میں بہنے والی نہروں گومتی، ورونا سائی وغیرہ کو گنگا نے زیر آب کردیا ہے ۔جس کے وجہ سے ان نہروں کے کناروں پر رہنے والے مقامی مکینوں کو مزید دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ساتھ ہی جمنا کے ذریعہ باندہ اور ارئی میں تباہی جاری ہے ۔مرکزی واٹر کمیشن کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق گذشتہ 2دنوں سے گنگا کے پانی کی سطح میں ایک سینٹی میٹر فی گھنٹے کے اعتبار سے اضافہ ہورہا ہے ۔