اتر پردیش کے مسلمان بڑھتی بیروزگاری سے پریشان

   

جرائم خوفناک اضافہ ، یوگی حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ، پولیس غیرسماجی عناصر کی آلہ کار

لکھنئو۔ وقت کیساتھ بڑھتے مسائل اور بے قابو جرائم نے اتر پردیش کے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ معروف سماجی کارکن اور جمعیتہ العلما لکھنئو کے نائب صدر ڈاکٹر سلمان خالد نے کہا کہ ریاست میں امن پسند اور آئین و قانون میں یقین رکھنے والے لوگ مایوس ہیں۔ کھلے عام اغوا، چوری ،ڈکیتی ، رہزنی ،قتل اور آبرو ریزی کی وارداتیں جس انداز سے دیکھنے اور پڑھنے کو مل رہی ہیں ان سے لگتا ہی نہیں کہ ہم ایک انسانی دنیا میں سانس لے رہے ہیں۔ کورونا نے پہلے ہی لوگوں کی کمر توڑ دی تھی رہی سہی کسر جرائم پیشہ لوگوں نے پوری کردی ہے۔ ڈاکٹر سلمان نے کہا کہ حکومت کے کاغذوں پر سب کچھ ٹھیک بلکہ بہت بہتر ہے۔وہیں، معروف سماجی کارکن پریشر گروپ آف مائنارٹیز کے صدر سید بلال نورانی کے مطابق کورونا کے سبب بڑھتی بے روزگاری اور غربت سے عوام ٹوٹے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف بڑھتے جرائم اور اس پر پولیس کی بدعنوانیاں ہیں۔ معروف صحافی عامر صابری کے امین آباد واقع دفتر پر غیر سماجی عناصر کا قبضہ اور پولیس پر رشوت لے کر قبضہ کرانے کے الزامات یہ بتانے کیلئے کافی ہیں کہ اتر پردیش میں اب کوئی محفوظ نہیں۔عامر صابری نے کہا کہ پولیس کے اہلکار و افسران نیچے سے اوپر تک ایک ہی رنگ میں رنگے ہیں۔ کورونا لاک ڈاون کے دوران ان کے اخبار اور میگزین کے دفتر پر قبضہ ہوجانا ، جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا اور شکایت درج کرانے پر پولس کے ذریعے کوئی مناسب کارروائی نہ کرنا واضح کرتا ہے کہ اتر پردیش میں اب شریف لوگوں کیلئے ذہن و زمین تنگ ہوچکی ہے۔