پروفیسر اپوروانند
کسی بھی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بلالحاظ مذہب و ملت، رنگ و نسل، ذات پات عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کسی کے بھی خلاف اگر نفرت پھیلائی جارہی ہے تو اس کا انسداد کرے۔ ساتھ ہی عوام میں یہ احساس پیدا کرے کہ کسی بھی مذہب کے خلاف نفرت پھیلانا جرم ہے اور اس نفرت کو پھیلانے کی اجازت دینا اس جرم میں شریک ہونا ہے۔ ہم بات کررہے دہلی کے اتم نگر کی جہاں فرقہ پرست تنظیموں کے قائدین مسلمانوں کودھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کے خلاف نفرت پھیلانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہے ہیں۔ اتم نگر میں جو کچھ ہورہا ہے یا ہونے دیا جارہا ہے وہ صرف غلط ہی نہیں بلکہ ایک جرم ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے جو ہمارے دستور اور قانون کے مطابق ایک جرم ہے۔ اگر دیکھا جائے تو معاشرہ کے ہر طبقہ کو تحفظ فراہم کرنا اور انہیں اس کا احساس دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے باوجود حکومت آخر کیوں مسلمانوں کی حفاظت کیلئے خود کو جوابدہ نہیں بناتی یا مانتی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کے اتم نگر میں فرقہ پرست تنظیموں نے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے جیسے نعرے لگائے ہیں جس سے علاقہ کے مسلمانوں میں خوف کی لہر پیدا ہوگئی ۔ اتم نگر میں ایسا ماحول پیدا کیا گیا اور مسلمانوں کے خلاف اس قدر نفرت پھیلائی گئی کہ وہاں بدامنی کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔ اگرچہ انتظامیہ بھیڑ کو کھلی تشدد کی اجازت نہیں دے رہی ہے جو مسلمانوں کو کاٹ ڈالنا چاہتی ہے لیکن وہ اس بھیڑ کو جلوس نکالنے اور مسلمانوں کے خلاف پرتشدد نعرے لگانے سے روک نہیں رہی ہے یہ تشدد ہے یا نہیں اس پر فلسفیانہ اور نفسیاتی بحث کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ بار بار ایسے اشتعال انگیز نعرے سنیں جس میں قبروں تک کا نام و نشان مٹادینے کی دھمکی دی جاتی ہو تو اس کا آپ پر کیا اثر مرتب ہوگا۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوگا آخر انتظامیہ ایسی بھیڑ کو جمع ہونے کیوں دے رہی ہے۔ اس سوال پر شاید انتظامیہ کا جواب ہوگا کہ وہ چاہتی ہے کہ اشتعال انگیز نعرے بلند کرنے والوں کے دلوں کا غبار نکل جائے اور وہ تو مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے جیسے نعروں کو صرف نعرے بازی تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔ پھر اگر مسلمان یہ کہنے لگیں اس طرح کی بھیڑ اور اس قسم کے نعروں سے انہیں خوف محسوس ہوتا ہے تو مسلمانوں کو یہ کہہ کر برداشت کرنے کا مشورہ دیا جاسکتا ہے کہ یہ ایک ہندو کے قتل پر ہندوؤں کا فطری ردعمل ہے۔ یہ اچھا ہوا کہ پولیس نے بھیڑ کی یہ بات نہیں مانی کہ وہ صرف 15 منٹ کیلئے راستے سے ہٹ جائے۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ جو لوگ تشدد پر اترنا چاہتے ہیں وہ پولیس کے ہٹنے کا مطالبہ کیوں کررہے ہیں؟ یہ بھی حقیقت ہے کہ ترون کھٹک قتل کے ملزمین کے مکان کو پولیس کی نگرانی میں نذرآتش کیا گیا اور وہاں بڑے پیمانے پر لوٹ مار بھی ہوئی۔ پولیس نے پوری طرح سے ہجوم کا ساتھ دیا اور یہ ہمارے ملک میں پولیس کے عام ریکارڈ کے مطابق ہی ہے۔ ہم آپ کو 84 کے دہے میں واپس لئے چلتے ہیں جب اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کا قتل ہوا تھا۔ قتل کے بعد نہ صرف دارالحکومت دہلی بلکہ ملک کے مختلف مقامات پر پولیس نے اندرا گاندھی کے قتل پر برہم و مشتعل ہجوم کو سکھوں کو مارنے لوٹنے کی اجازت دی۔ اترپردیش کے ہاشم پورہ میں تو حد ہوگئی تھی جہاں پولیس اور فوجی جوانوں نے نہ صرف مسلمانوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کی ہجوم کو اجازت دی بلکہ خود بھی مسلمانوں کو مارا۔ حد تو یہ ہیکہ وہ عید کے دن اجتماعی نماز بھی ادا نہیں کرسکتے اس کی وجہ پولیس نے بدامنی پیدا ہونے کا خدشہ بتایا ہے۔ اس کے برعکس اگر ہندو مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکی دیتے ہوئے میٹنگ کریں یا جلوس نکالیں تو اسے ان کے اظہاررائے کی آزادی کے حق کا استعمال کہا جاتا ہے۔ راقم کے دو مسلمان دوستوں نے اتم نگر سے واپسی پر بتایا کہ اتم نگر میں گڑبڑ باہر سے آئے لوگ کررہے ہیں جبکہ مقامی ہندو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ اتم نگر میں دو خاندانوں کے مابین جھگڑا ہوا۔ ایک مسلمان اور دوسرا ہندو خاندان، دونوں خاندانوں کے لوگ لڑائی میں زخمی ہوئے جبکہ ہندو خاندان کا ایک فرد ایسا زخمی ہوا کہ جانبر نہ ہوسکا جس کے ساتھ ہی پولیس نے مسلم خاندان کے تمام ارکان کو گرفتار کرلیا۔ ایک بات ضرور ہیکہ ووٹ کی خاطر عوام کے در پر جانے والے سیاستداں اور ان کی سیاسی جماعتیں اتم نگر سے خود کو دور کیوں رکھے ہوئے ہیں۔ وہ اتم نگر کے ہندوؤں اور مسلمانوں سے بات چیت کرکے وہاں امن و امان کی فضاء قائم کرسکتے ہیں۔ ویسے بھی قیام امن اور امن کی برقراری میں حکومت کے ساتھ ساتھ پولیس اور سیاسی جماعتوں کا اہم کردار ہوتا ہے لیکن وہ حقیقت میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں تو کوئی بھی امن کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔