مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے طلب کردہ اجلاس میں کوئی پیشرفت نہیںہوسکی
حیدرآباد۔28۔اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھراپردیش کے درمیان اثاثہ جات کی تقسیم پر تنازعہ برقرار ہے۔ نئی دہلی میں واقع اے پی بھون اور دیگر اداروں کے اثاثہ جات کی تقسیم کے سلسلہ میں مرکزی وزارت داخلہ نے دونوں ریاستوں کے عہدیداروںکا اجلاس طلب کیا تھا۔ اثاثہ جات کے مسئلہ پر دونوں ریاستیں اپنے موقف پر اٹل رہیں جس کے نتیجہ میں اجلاس کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہوگیا۔ تلنگانہ کی نمائندگی اسپیشل چیف سکریٹری فینانس کے رام کرشنا راؤ اور دہلی میں ریسیڈنٹ کمشنر گورو اپل نے کی جبکہ آندھراپردیش حکومت کے مشیر ڈاکٹر ادتیہ ناتھ داس ، اسپیشل چیف سکریٹری فینانس ایس ایس راوت اور ریسیڈنٹ کمشنر ہیمانشو کوشک نے آندھرا حکومت کی نمائندگی کی ۔ وزارت داخلہ حکومت ہند کے سکریٹری سنجیو کمار جندل نے اجلاس کی صدارت کی ۔ ریاست کی تقسیم کے بعد مرکزی حکومت نے دہلی کے آندھراپردیش بھون کو دو علحدہ بلاکس میں تقسیم کرتے ہوئے دونوں ریاستوں کے حوالے کیا ۔ مرکز نے منقولہ اثاثہ جات کو 52:48 تناسب سے آپس میں تقسیم کرنے کی ہدایت دی۔ ذرائع کے مطابق دونوں ریاستیں اشوکا روڈ اور مادھو راؤ سندھیا روڈ پر 19.7 ایکر اراضی پر دعویداری پیش کر رہی ہیں۔ 8.7 ایکر میں مرکز نے آندھراپردیش کو 4.38 ایکر اور تلنگانہ کو 4.33 ایکر اراضی الاٹ کی ہے۔ تنظیم جدید قانون کے تحت آندھراپردیش کو 1703 کروڑ اور تلنگانہ کو 1694 کروڑ کے اثاثہ جات منتقل کئے گئے ۔ اے پی بھون کا گوداوری بلاک 4.08 ایکر پر محیط ہے جسے تلنگانہ کے حوالے کیا گیا جبکہ 4.13 ایکر پر محیط بلاک آندھراپردیش کو دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ کے عہدیدار اے پی بھون کی تمام عمارتیں اور اراضی حوالے کرنے کی مانگ کر رہے ہیں۔ر