وزیر تعلیم کی قیامگاہ کا گھیراؤ کرنے این ایس یو آئی صدر کا اعلان
حیدرآباد۔28۔اپریل (سیاست نیوز) کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی نے تلنگانہ میں خانگی یونیورسٹیز کے قیام کی مخالفت کی ہے۔ این ایس یو آئی کے صدر بی وینکٹ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 2018 ء میں حکومت نے 5 خانگی یونیورسٹیز کو منظوری دی تھی جبکہ 2021 ء میں مزید 6 یونیورسٹیز کو منظوری دیتے ہوئے اسمبلی میں بل منظور کیا گیا ۔ گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے نئی یونیورسٹیز کے قیام کا بل حکومت کو واپس کردیا ہے۔ وینکٹ نے کہا کہ گورنر سے منظوری حاصل ہونے کے بعد حکومت کو نئی یونیورسٹیز کے قیام کی اجازت دینی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بعض خانگی یونیورسٹیز اجازت کے بغیر ہی کام کر رہی ہے جس کے لئے محکمہ تعلیم ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کی منظوری کے بغیر صرف حکومت کی اجازت سے خانگی یونیورسٹیز کی برقراری باعث حیرت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرونانک یونیورسٹی اور سری ندھی یونیورسٹی میں اجازت کے بغیر ہی داخلوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ حکومت میں شامل افراد کی سرپرستی میں خانگی یونیورسٹیز طلبہ کو دھوکہ دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خانگی یونیورسٹیز کے انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کو ترغیب دی جارہی ہے کہ راج بھون کے روبرو دھرنا منظم کریں۔ بی وینکٹ نے خانگی یونیورسٹیز کی بے قاعدگیوں پر وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی کی خاموشی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ خانگی یونیورسٹیز کے طلبہ کو دیگر یونیورسٹیز میں منتقل کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ این ایس یو آئی ، گرونانک اور سری ندھی یونیورسٹیز کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائے گی۔ حکومت کی جانب سے خاموشی پر 2 مئی کو سبیتا اندرا ریڈی کی قیامگاہ پر گھیراؤ کیا جائے گا۔ وینکٹ نے کہا کہ کانگریس پارٹی خانگی یونیورسٹیز کے حق میں نہیں ہے۔ر