مسلمانوں کو اسلام کی بنیادوں پر مستحکم کرنے کی کوشش پر پروفیسر محمد فہیم اختر کا خطاب
حیدرآباد، یکم؍ نومبر (پریس نوٹ) ’’اجتہاد اور مقاصد شریعت کا علم مسلمانوں کو ہمیشہ اسلام کی بنیادوں سے جوڑے رکھنے کے سب سے اہم ذرائع رہے ہیں، جن کے ذریعہ مجتہدین مختلف حالات کے متنوع مسائل کا شرعی مصادر میں حل تلاش کرتے ہیں۔ دیگر قومیں جنہوں نے اپنے اصل مذہبی احکام کو پس پشت ڈال دیا، اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ احکام ومسائل کے حل کے لئے ان کے پاس اجتہاد اور مقاصد شریعت جیسے اہم ذرائع نہیں تھے، چنانچہ جب انھیں اپنے مسائل میں مذہبی رہنمائی نہ ملی تو انہوں نے ان میں تبدیلیاں کرنی شروع کر دیں یا مذہب سے کنارہ کشی اختیار کر لی‘‘۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر محمد فہیم اختر (صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز مانو) نے شعبہ میں ’’اسلامی مطالعات فورم‘‘ کے تحت منعقدہ پروگرام ’’اجتہاد اور مقاصد شریعت‘‘ میں کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ’’قرآن کریم، احادیث رسول ﷺ اور دیگر مصادر شرعیہ میں قیامت تک کے لئے ہر طرح کے حالات سے متعلق اصولی احکام موجود ہیں، اجتہاد کے ذریعہ ان اصولی احکام کی علتوں کو پیش آمدہ مسائل کی علتوں پر تطبیق دیتے ہوئے ان کا حکم متعین کیا جاتا ہے، اجتہاد کا یہ اہم کام عہد نبوی ﷺ سے اب تک جاری ہے اور اخیر وقت تک جاری رہے گا‘‘۔ اس کے بعد انہوں نے اجتہاد کے معنی ومفہوم، اہمیت اور اس کے طریقہ پر مفصل روشنی ڈالی۔ انہوں نے اجتہاد اور قیاس کے درمیان فرق پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ان دونوں کے درمیان بس اس قدر فرق ہے کہ قیاس انفرادی طور پر کیا جاتا ہے، جبکہ اجتہاد انفرادی بھی ہوتا ہے اور اجتماعی طور پر بھی انجام دیا جاتا ہے‘‘۔ پھر انہوں نے اجتہاد جزئی پر روشنی ڈالتے ہوئے موجودہ نئے مجتہد فیہ مسائل سے طلبہ کو روشناس کرایا۔ ساتھ ہی اس وقت کے وہ ادارے جو بین الاقوامی سطح پر اس قسم کے مسائل کو حل کرنے میں سرگرم عمل ہیں ان کا تعارف پیش کیا، اسی طرح اجتہاد اور مقاصد شریعت پر لکھنے والے بعض مصنفین کا تعارف کراتے ہوئے اپنی بات ختم کی۔ صدارتی خطاب میں ڈاکٹر محمد عرفان احمد (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ) نے کہا کہ ’’آج کا یہ خطاب نہایت ہی جامع اور ہمارے لئے معلومات افزا تھا۔ آج کے اس خطاب سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمارا ہر علمی کام تحقیقی معیار پر پورا اترنا چاہئے، اور ہمیں بعض ایسے عناوین جو تاریخ کی کتابوں میں نقل ہوتے چلے آرہے ہیں ان پر بھی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔