اجمیر میں چھوٹی عرس اختتام پذیر

   

اجمیر ۔ محرم ( چھوٹی عرس) ہجری 1443 آج علی الصبح تعزیہ سیراب کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔ تعزیے کو درگاہ اجمیر میں رکھا گیا اور بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے دعا کی۔ کورونا قوانین کی پابندیوں کے تحت تعزیہ کا جلوس اور دولہ شریف کی سواری باہر نہیں نکل پائی ، لیکن پوری رات رسمی طور پر خدام خواجہ بیان شہادت ، مرثیہ خوانی اور سلام پیش کرتے رہے ۔ بعد ازاں رسم کے طور پر تعزیہ کو منتخب خادموں کی قیادت میں درگاہ کے عقب میں واقع جھلڑہ میں لے جایا گیا اور روایتی انداز میں سیراب تعزیہ کی رسم ادا کی گئی۔ یہ رسم سواری کی صورت میں شروع ہوتی ہے اور گیارہ تاریخ کو تعزیہ سیراب کردیا جاتا ہے ۔ اسی طرح تارا گڑھ میں واقع حضرت میراں صاحب کی درگاہ پر بھی تعزیہ کی سواری نکال کر مدفن کی مذہبی رسم ادا کی گئی۔ یہاں بھی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے علامتی طور پر اپنے آپ پر ظلم کرکے ماتم کیا اور کچھ نے لہو لہان بھی کیا۔اس کے بعد تعزیہ سیراب کیاگیا۔ محرم کے اختتام کے باوجود درگاہ شریف اور درگاہ کے علاقے میں بڑی تعداد میں عقیدت مند موجود ہیں۔ یہ کورونا دور کا دوسرا سال ہے جب اجمیر میں تعزیہ سواری اور ہائیدوس پروگرام منعقد نہیں کیا گیا۔ درگاہ سے وابستہ فریق انتظامیہ سے اجازت مانگتے رہے لیکن کامیاب نہیں ہوئے ۔ درگاہ کے علاقے میں پولیس سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے ۔