اجناس خریدی مراکز کی برخاستگی کی شدید مخالفت

   

Ferty9 Clinic

چیف منسٹر پر وزیر اعظم کے اشاروں پر چلنے کا الزام ، کاماریڈی میں کانگریس کا احتجاج، محمد علی شبیر کا خطاب

کاماریڈی ۔ چیف منسٹر مسٹر چندرا شیکھر راؤ کی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم کے اشاروں پر اناج خریدی مراکز کو برخواست کردیا گیا ۔ ان خیالات کا اظہار سینئیر کانگریسی قائد و سابق ریاستی وزیر محمد علی شبیر نے کاماریڈی میں کسانوں کے دھرنا سے مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی و ریاستی حکومتیں منصوبہ بند طریقے سے اجناس کے خریدی مراکز کو برخواست کرنا سراسر غلط ہے اور دونوں حکومتوں کو کسانوں سے کسی قسم کی دلچسپی نہیں ہے ۔ دہلی میں گذشتہ 45 دن سے کسان سردی میں مرکزی حکومت کے سیاہ بلوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔ لیکن حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ لاک ڈاؤن کے موقع پر پارلیمنٹ میں منصوبہ بند طریقے سے بلوں کو پاس کرالیا گیا ۔ جبکہ اپوزیشن کی جانب سے اس کی شدید مخالفت کرنے کے باوجود بھی ان بلوں کو منطور کیا گیا اور احتجاجی کسانوں پر لاٹھیاں برسائی گئی ۔ مسٹر شبیر علی نے سوامی ناتھم کے سفارشات کے مطابق اقل ترین قیمتوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کو کارپوریٹ اداروں کے حوالے کرنے کیلئے مودی حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جارہے ہیں اور ایل آئی سی ، بی ایس این ایل کو فروخت کردیا گیا اور اب ریلوے کو فروخت کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ کانگریس پارٹی کسانوں کے حق میں ہیں اور اجناس کی خریدی مراکز کے قیام تک احتجاج کو جاری رکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پرانہتا چیوڑلہ پیاکیج نمبر 21، 22 کیلئے عنقریب میں پد یاترا کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پد یاترا کے ذریعہ کسانوں کو آبی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالا جائے گا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کے نام پر سدی پیٹ ، سرسلہ اور گجویل حلقوں کو آبی سہولتیں فراہم کی گئی ۔ باقی حلقوں کو نظر انداز کردیا ۔ اس جلسہ کی کارروائی صدر ضلع کانگریس کے سرینواس نے چلائی ۔ جلسے کو ضلع اقلیتی سیل محمد خالق ، بالراج ، پی راجو کے علاوہ دیگر نے بھی مخاطب کیا ۔ اس جلسہ میں محمد سراج الدین ، اے راج ریڈی کے علاوہ دیگر نے شرکت کی ۔