محمد ریحان
مہاراشٹرا کے ڈپٹی چیف منسٹر اور این سی پی سربراہ اجیت پوار 28 جنوری 2026 کو ہیلی کاپٹر حادثہ میں ہلاک ہوگئے ۔ ان کے ساتھ دیگر چار افراد بشمول ان کے سیکوریٹی پر تعینات 3 اہلکار بھی اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے۔ ہیلی کاپٹر حادثہ میں 66 سالہ اجیت پوار کی موت کے ساتھ ہی مختلف گوشوں کی جانب سے کئی ایک سوال اٹھائے جارہے ہیں ۔ شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا جارہا ہے ۔ کچھ سیاستداں یہ بھی پوچھنے لگے ہیں کہ آیا یہ ہیلی کاپٹر حادثہ ہی تھا یا قتل ؟ خاص طور پر چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ اور اکھلیش یادو نے اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ آپ کو بتادیں کہ اجیت پوار نے 2023 میں اپنے چچا شرد پوار کی زیر قیادت این سی پی سے بغاوت کر کے این سی پی (اجیت پوار) قائم کرلی تھی ۔ انہوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ این ڈی اے حکومت میں شمولیت اختیار کرلی اور ڈپٹی چیف منسٹر بنائے گئے اور حالیہ عرصہ کے دوران این سی پی کے دونوں گروپوں کے انضمام کی بات ہورہی تھی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اجیت پوار کی زندگی اور موت کا فیصلہ صرف آدھے گھنٹے میں ہوگیا ۔ ا یک چھوٹے سے ہیلی کاپٹر میں وہ ممبئی سے صبح 8 بجکر 10 منٹ پر روانہ ہوئے ، اس کے آدھا گھنٹے بعد راڈار سے لاپتہ ہوگئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ پائلٹ نے لینڈنگ کی پہلی کوشش میں ناکامی کے بعد دوسری مرتبہ لینڈنگ کی کوشش کی اور اس دوران وہ حادثہ کا شکار ہوگیا ۔ ہیلی کاپٹر گرنے کے ساتھ ہی ٹکرے ٹکڑے ہوگیا اور ساتھ شعلہ پوش بھی ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اجیت پوار Learjet-46 میں سفر کر رہے تھے جو دہلی سے کام کرنے والے VSR وینچرس کی ملکیت ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ممبئی سے روانگی کے 35 منٹ بعد 8.45 منٹ پر ہیلی کاپٹر کراش ہوگیا ۔ دوسرے مہلوکین میں اجیت پوار کے پی ایس او پائلٹ و دیگر شامل تھے ۔ مسٹر اجیت پوار’’بارہ متی‘‘ میں چار اہم جلسوں سے خطاب کرنے والے تھے جو اگلے ماہ منعقد ہونے والے مقامی اداروں کے انتخابات کے ضمن میں منعقد کئے گئے تھے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ اجیت پوار کے پسماندگان میں اہلیہ نیترا اور دو بیٹے پارتھا اور جئے شامل ہیں ۔ اجیت پوار کس قدر ہوشیار سائنسداں تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے چار چیف منسٹروں پرتھوی چوان ، ادھو ٹھاکرے ، ایکناتھ شنڈے اور دیویندر فڈنویس کے تحت ڈپٹی چیف منسٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اجیت پوار کی موت پر وزیراعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور ڈپٹی چیف منسٹر ایکناتھ شنڈے نے گہرے صدمہ کا اظہار کیا ۔ اس سے پہلے 12 جون 2025 کو گجرات کے سابق چیف منسٹر وجئے روپانی کا گجرات کے احمد آباد میں ایر انڈیا طیارہ پرواز ہونے کے چند منٹوں میں گر پڑا تھا جس میں دو سو سے زائد مسافرین ہلاک ہوئے تھے ۔ یہ طیارہ احمد آباد سے لندن جارہا تھا ۔ اس واقعہ میں صرف ایک مسافر کرشماتی طور پر محفوظ رہا جبکہ 8 ڈسمبر 2021 کو ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بین راوت ہیلی کاپٹر حادثہ میں ہلاک ہوئے ، وہ Sulur سے ویلنگٹن جارہے تھے کہ ٹاملناڈو میں Coonoor کے قریب طیارہ حادثہ کا شکار ہوا ۔ جنرل بین راوت کے ساتھ ان کی اہلیہ اور دیگر 11 افراد بھی سفر کر رہے تھے ۔ تمام کے تمام اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے ۔ اس طرح 30 اپریل 2011 کو اروناچل پردیش کے چیف منسٹر Dorjee Khandu ہیلی کاپٹر حادثہ میں موت کے منہ میں پہنچ گئے ۔ ان کا ہیلی کاپٹر Tawans سے ایٹا نگر جارہا تھا ۔ اس حادثہ میں دیگر چار افراد بھی مارے گئے۔ 2 ستمبر 2009 کو متحدہ آندھراپردیش کے چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی ہیلی کاپٹر حادثہ میں مارے گئے ، وہ Bell 430 ہیلی کاپٹر میں سفر کر رہے تھے کہ ہیلی کاپٹر نلا ملا جنگلاتی علاقہ میں حادثہ کا شکار ہوا۔ خرابی موسم کو حادثہ کا سبب بتایا گیا ۔ سال 2005 میں صنعت کار اور سیاستداں اوپی جندل اور سریندر سنگھ (ہریانہ کے ریاستی وزیر جنگلات) ہیلی کاپٹر حادثہ میں اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے ۔ دہلی سے چندی گڑھ جارہے تھے کہ اترپردیش کے ضلع سہارن پور میں ہیلی کاپٹر گرنے سے چل بسے 17 اپریل 2004 کو جنوبی ہند کی مشہور اداکارہ کے ایس سومیا جو سوندریہ کے نام سے مشہور تھی ہیلی کاپٹر حادثہ میں چل بسی۔ وہ بنگلور سے آندھراپردیش کے ضلع کریم نگر اپنے بھائی کے ساتھ جارہی تھی ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 3 مارچ 2002 کو اس وقت کے لوک سبھا اسپیکر جی ایم سی بالا یوگی ایک خانگی ہیلی کاپٹر میں سفر کر رہے تھے کہ حاثہ کا شکار ہوگئے ۔ بالا یوگی مغربی گوداوری ضلع کے بھیما ورم سے جارہے تھے کہ آندھراپردیش کے ضلع کرشنا میں وہ فضائی حادثہ پیش آیا۔ 23 جون 1980 کو اندرا گاندھی کے چھوٹے فرزند سنجے گاندھی طیارہ حادثہ میں اپنی زندگی سے محروم ہوئے ۔ ایسے ہی ایک سائنسداں ہومی جہانگیر بھا بھا بھی تھے ۔ 24 جنوری 1966 کو وہ ایر انڈیا کی فلائیٹ نمبر 101 میں سوار ہوئے اور پھر وہ طیارہ سوئس آپس کے ماؤنٹ بلنک میں حادثہ کا شکار ہوگیا ۔ ہومی جہانگیر بھابھا کو ہندوستان میں نیوکلیئر سائنس پروگرام کا بانی کہا جاتا ہے ۔ بہرحال جہاں تک اجیت پوار کی موت کا سوال ہے جس ہیلی کاپٹر میں وہ سوار تھے یعنی VSR ایوی ایشن کے طیارہ میں شہری ہوا بازی کی اس کمیٹی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ستمبر 2023 میں بھی ممبئی ایرپورٹ پر learget 45 گر کر تباہ ہوگیا تھا ۔ تازہ ترین حادثہ کے بارے میں VSR ایوی ایشن کے مالک وی کے سنگھ کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر میں کوئی خرابی نہیں تھی اور وہ اچھی حالت میں تھا بالکل فٹ تھا اور ایر کرافٹ میں کوئی فنی نقص بھی موجود نہیں تھا ۔ یہ کمپنی سات learget چلاتی ہے۔