11 پاسنجر بسوں کو نقصان، پولیس اسٹیشن پر مظاہرہ ، ملزمین کے مکانات گرانے کا مطالبہ
اجین ۔ 23 جنوری (ایجنسیز) مدھیہ پردیش میں ضلع اجین کے ترانہ ٹاؤن میں جمعہ کو کشیدہ صورتحال پرتشدد ہوگئی جب ہندو برادری کے احتجاجیوں نے وی ایچ پی کے عہدیدار پر حملے کے خلاف کارروائی مطالبہ کرتے ہوئے غنڈہ گردی کی اور 11 پاسنجر بسوں کو توڑپھوڑ کرکے جلاڈالا۔اجین چیف منسٹر مدھیہ پردیش ڈاکٹر موہن یادو کا آبائی ضلع ہے۔ بسنت پنچمی کے دن بھی کشیدگی برقرار رہی۔ دکانیں بند رہیں اور پولیس گشت کرتی رہی۔ جمعرات کی شام ترانہ ٹاؤن کی بڑی رام مندر کے پاس چپقلش بڑھتے بڑھتے جھڑپ میں تبدیل ہوگئی۔ سہیل ٹھاکر جو وشواہندو پریشد کا مکمل وقتی ممبر ہے، وہ مقامی مالی پورہ علاقہ کو کچھ کام سے آیا تھا۔ مادرگڑھ اور قاضی محلہ کی مخصوص کمیٹی کے لوگوں سے اس کی بحث ہوگئی۔ معاملہ اس قدر بڑھ گیا کہ سہیل پر مہلک ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔ زخمی حالت میں اسے اجین ڈسٹرکٹ ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ سہیل ٹھاکر پر حملہ کی اطلاع کے ساتھ ہی ساری ہندو کمیٹی کا احتجاج شروع ہوگیا۔ انہوں نے متعلقہ پولیس اسٹیشن پر مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمین کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ احتجاجیوں نے شہر میں بند کی اپیل بھی کی ۔ انہوں نے بعض بسوں کو نقصان پہنچایا۔ متاثرہ علاقہ میں بھاری پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے۔ ایس پی پردیپ شرما نے بتایا کہ ملزمین کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے اور ترانہ میں فساد کے بعد صورتحال اب قابو میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے بعد ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ہندو تنظیموں کا مطالبہ ہیکہ ملزمین کی جلد از جلد گرفتاری کے ساتھ ان کے مکانوں کو منہدم کردیا جائے۔ علاقہ میں پولیس گاڑیوں کے سائرنوں کی آوازیں سنی گئی جس سے خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا ہے۔ ترانہ ضلع اجین 150 کیلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ پولیس اور حکام حالات پر قابو پانے کے اقدامات کررہے ہ