بلڈوزر سے انہدام روکنے ساری رات مسلمانوں نے پہرہ دیا ۔ پولیس لا ٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیلس برسائے گئے ۔ خواتین بھی سڑک پر اُتر آئیں ، ہائیکورٹ میں درخواست مسترد
اجین ۔ 28ستمبر ( ایجنسیز ) مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں کل رات سے کشیدگی پیدا ہوگئی جب انتظامیہ کی جانب سے تاریخی 600 سال قدیم شاہی مسجد کے ایک حصہ کو منہدم کرنے کی کوشش کے خلاف مقامی عوام نے زبردست احتجاج کیا اور انہوں نے ساری رات مسجد میں گذاری ۔ کہا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے 2028 میں ہونے والے سمہستا کمبھ کے سلسلہ میں سڑکوں کی توسیع کی جا رہی ہے ۔ اسی سلسلہ میں مسجد کے ایک حصے کو بھی منہدم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے خلاف مقامی مسلمانوں نے زبردست مزاحمت کی اور انہوں نے بے تحاشہ پولیس فورس کی موجودگی اور بلڈوزرس کی آمد کے باوجود ساری رات مسجد میں دعاء اور عبادت میں گذاری اور مسجد کے بڑے حصے کو منہدم کرنے سے روکا ۔ مسجد کے باہر ساری رات بلڈوزرس موجود رہے ۔ ساری رات مسلمانوں کی جانب سے چوکسی اور مسجد میں موجودگی کی وجہ سے آج پیر کی صبح پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور انہدام کی مخالفت کرنے والے مسلمانوں پر آنسو گیس کے شیلس برسائے ۔ پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال اور آنسو گیس کے شیلس برسائے جانے کے خلاف مقامی عوام اور پولیس فورسیس میں ٹکراؤ کی کیفیت بھی پیدا ہوئی اور پولیس ہپر سنگباری بھی کی گئی ۔ اس دوران مسجد کمیٹی سے وابستہ کچھ والینٹرس نے رضاکارانہ طور پر مسجد کے باہر لٹتے ہوئے تین فیٹ کے سلیب کو خود ہی منہدم کرنا شروع کردیا تاکہ بلڈوزر کارروائی نہ کی جاسکے ۔ سینکڑوں افراد کے احتجاج اور کشیدگی کے دوران مسجد کمیٹی کے والینٹرس نے یہ کارروائی انجام دی ۔ مسجد کے علاقہ سے آنے والے کچھ ویڈیو کلپس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ والینٹرس بہ دیدہ نم اور کچھ زار و قطار روتے ہوئے مسجد کے ایک حصے کو منہدم کر رہے تھے ۔ واضح رہے کہ مقامی مسلمانوں کی جانب سے مسجد کے انہدام کے خلاف مدھیہ پردیش ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی تھی اور انہدام کو روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔ تاہم کہا گیا ہے کہ عدالت نے انہدام کی نوٹس کو چیلنج کرنے والی دو درخواستوں کو مسترد کردیا ہے ۔ جسٹس سندیپ این بھٹ نے درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مشکل حقیقت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیا کارروائی قابل اطلاق قانونی دفعات کے تحت آتی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ مسجد کا جو مقام ہے وہ ایک اور مذہبی پروگرام میں رکاوٹ بن رہا ہے جس میں کثیر تعداد میں بھکت شرکت کرسکتے ہیں ۔ یہاں ٹریفک کنٹرول کی ضرورت ہے اور ایسے میں اجین میونسپل کارپوریشن کی کارروائی قانونی قرار دی جاسکتی ہے ۔ اجین میں سڑک چوڑی کرنے کیلئے شاہی مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کی کارروائی کے دوران پیر کی صبح ہنگامہ ہوگیا۔ احتجاج کرنے والے ہجوم اور پولیس کے درمیان پتھراؤ ہوا، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے ۔ اس واقعے میں کرائم برانچ میں تعینات تھانہ انچارج پشپا پانچال کے ہاتھ میں چوٹ آئی۔پولیس کے مطابق ہنگامہ کے بعد 10 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ۔ ان میں پانچ سوشل میڈیا انفلوئنسر بتائے جاتے ہیں، جن پر ماحول خراب کرنے کا الزام ہے ۔ اطلاعات کے مطابق کچھ ملزمان کو گرفتار کرنے کی بھی اطلاع ہے ۔شاہی مسجد کا سڑک کی جانب نکلا ہوا تقریباً 9 فیٹ لمبا اور 4 فیٹ چوڑا حصہ ہٹایا جانا ہے ۔ کارروائی کے دوران متاثرہ حصے کو گرین نیٹ سے ڈھانپ دیا گیا۔ اس دوران مسلم برادری کے کچھ افراد نے مسجد کے متعلقہ حصے کو خود ہٹانے کا عمل شروع کیا۔احتجاج کے دوران مسلم خواتین نے ناکہ نمبر 5 پر سڑک جام کردی۔ پولیس نے آس پاس کی گلیوں میں بیرونی افراد کی آمدورفت روک دی اور علاقہ میں اضافی پولیس فورس تعینات کردی۔ پتھراؤ کے بعد پولیس نے ہجوم کو قابو کرنے آنسو گیس کے گولے داغے ۔پولیس کے مطابق خواتین کو ہٹانے ‘ انہیں محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کی کارروائی میں تھانہ انچارج پشپا پانچال کے ہاتھ پر چادر کے کونے سے کٹ لگ گیا۔ انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ کسی خاتون کو چوٹ نہیں آئی۔ آخری اطلاعات ملنے تک صورتحال میں ہلکی کشیدگی بتائی گئی ہے ۔