کانسٹبلس کی حرکتوں کا سخت نوٹ ، ڈی جی پی تلنگانہ ڈاکٹر جتیندر کا بیان
حیدرآباد ۔ 26 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : بٹالین کانسٹبلس کی جانب سے جاری احتجاج کا ریاستی پولیس سربراہ نے سخت نوٹ لیا ہے اور ڈسپلن شکنی کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ پولیس سے وابستگی اور عوام کو مشکلات پیدا کرنا یہ ناقابل قبول اقدام ہے ۔ ریاستی ڈی جی پی ڈاکٹر جتیندر نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بٹالین کانسٹبلس کی اس حرکت کا سخت نوٹ لیا جائے گا ۔ خدمات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے سڑکوں پر تماشہ کرنا اس حرکت کو ڈسپلن شکنی کی طرز پر دیکھا جارہا ہے جس کے نتائج بھی سخت ہوں گے ۔ انہوں نے سخت نتائج کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اس حرکت کو کسی بھی صورت مزید برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے ان احتجاجی بٹالین کانسٹبلس کو اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ ان کے خلاف محکمہ جاتی اور قانونی کارروائی بھی کی جائے گی ۔ انہوں نے پھر ایک بار اس بات کو واضح کردیا کہ چھٹیوں کے معاملہ میں قدیم طریقہ کار پر ہی عمل آوری کی جائے گی ۔ باوجود اس کے احتجاج کرنا درست نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بٹالین کانسٹبلس کے اس احتجاج میں کسی سازش کے کارفرما ہونے کا شبہ ہے اور اس احتجاج کو بڑھاوا دینے میں مخالف حکومت طاقتوں کے ملوث ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا ۔ ریاست تلنگانہ میں ایک ہی پولیس پالیسی پر عمل آوری کا بٹالین کانسٹبلس مطالبہ کررہے ہیں اور ریاست بھر میں احتجاج بھی جاری ہے بلکہ اس احتجاج میں نہ صرف بٹالین کانسٹبلس بلکہ ان کے افراد خاندان بھی احتجاج میں شامل ہوچکے ہیں ۔ ضلع ورنگل کے ممنور کیمپ سے اس احتجاج کا آغاز ہوا اور احتجاج سکریٹریٹ پہونچا جس کے بعد بٹالین میں پھیل گیا ۔ ضلع رنگاریڈی کے ابراہیم پٹنم ، نلگنڈہ ، رورل ، منچریال میں احتجاج پھیل گیا ۔ یہ بٹالین کانسٹبلس جو یونیفارم میں احتجاج کررہے ہیں ۔ ٹی جی ایس پی کو ہٹاؤ ، ایک پولیس بناؤ کا نعرہ بلند کررہے ہیں جب کہ ڈی جی پی کا کہنا ہے کہ ملک کی ریاستوں میں تلنگانہ طریقہ تقرر پر عمل کیا جاتا ہے ۔۔ ع