ایک روزہ ہڑتال کا اہتمام ۔ حکومت کی جانب سے مطالبات کی عدم تکمیل پر نئی حکمت عملی طئے کرنے کسان یونین کا اعلان
نئی دہلی : کسان قائدین نے پیر کو ایک روزہ بھوک ہڑتال کی اور اُن کے رفقاء نے ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے کئے تاکہ نئے زرعی قوانین کو واپس لینے پر مجبور کیا جاسکے ۔ لیکن مرکزی وزیر راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ زرعی شعبہ کے خلاف کوئی بھی رجعت پسند اقدام حکومت کی جانب سے کئے جانے کا سوال ہی نہیں ۔ اُنھوں نے نئے قوانین کو کسانوں کے مفاد میں قرار دیا (تفصیلی خبر اندرونی صفحہ پر ) ۔ دہلی کے سرحدی مقامات پر احتجاج کے اُنیسویں روز شمال کی کئی ریاستوں سے آئے کاشتکاروں نے اپنی تحریک میں شدت پیدا کی ، بالخصوص دہلی کی گذرگاہوں پر زبردست احتجاج دیکھنے میں آیا۔ سردی کے باوجود احتجاجیوں نے دہلی سرحد کے مقامات ٹیکری ، غازی پور اور سنگھو میں اپنا احتجاج جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا حوصلہ کھونے والے نہیں تاوقتیکہ اُن کے مطالبہ کی تکمیل ہوجائے ۔ ایک کسان لیڈر نے دعویٰ کیا کہ مختلف ریاستوں بشمول ٹاملناڈو ، آندھراپردیش ، تلنگانہ ، اُڈیشہ ، مہاراشٹرا ، مدھیہ پردیش ، اُترپردیش ، اُترکھنڈ اور بہار میں ضلع سطح پر احتجاج کیا گیا ۔ بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر نے کہاکہ ایک روزہ بھوک ہڑتال صبح آٹھ بجے شروع کی گئی اور شام 5 بجے اختتام پذیر ہوئی ۔ یہ آج کی حکمت عملی رہی اور اگر مرکزی حکومت کسانوں کے مطالبات کو قبول نہیں کرتی ہے تو کسان یونین کو کل نئی حکمت عملی طئے کرنا پڑے گا ۔ بھوک ہڑتال کرنے والے قائدین نے شام میں پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا ۔ کسان لیڈر ٹکیٹ نے کہا کہ ہم زرعی قوانین کی منسوخی تک احتجاج جاری رکھیں گے ۔ حکومت کو ہماری فکرمندی پر توجہ دینا ہوگا اور ہمارے ساتھ مثبت بات چیت کرنی ہوگی ۔ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی ہے تو یہ احتجاج جاری رہے گا ۔ غازی پور سرحد پر تقریباً 15 کسان قائدین نے بھوک ہڑتال میں حصہ لیا ۔ اُن کے اطراف ہزارہا کسان جمع تھے جو اُن سے اظہاریگانگت کے لئے آئے ۔ گزشتہ دو ہفتوں سے کسان برادری متنازعہ زرعی قوانین کے مسئلہ پر یک جٹ ہے ۔ حکومت نے کئی مرحلوں کی بات چیت کی لیکن سب ناکام ہوئے ۔ کسانوں نے حکومت کی اس تجویز کو مسترد کردیا کہ وہ نئے زرعی قوانین میں ترامیم کریں گے ۔ کسانوں کا موقف اٹل ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ سیاہ قوانین کو واپس لینے پر ہی حکومت کے ساتھ مثبت اور فیصلہ کن بات چیت ممکن ہے ۔ اتوار کو کسانوں کی تنظیموں نے اعلان کیا تھا کہ وہ پیر کو دہلی سرحد پر بھوک ہڑتال کریں گے ۔ کسان قائدین نے کہا تھا کہ کسانوں کی طرف سے ایک روزہ بھوک ہڑتال ملک بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرس پر منعقد کی جائے گی ۔ اُن کے علاوہ سنگھو ، ٹیکری ، پلوال ، غازی پور وغیرہ پر بھی بھوک ہڑتال کا اہتمام کیا جائے گا ۔ اس دوران بھارتیہ کسان یونین (ہریانہ ) کے صدر گرونام سنگھ نے کہا ہے کہ مرکز اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی ) کے بارے میں گمراہ کررہا ہے ۔ اُنھوں نے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہہ دیا ہے کہ حکومت تمام 23 فصلوں کی خریداری ایم ایس پی کے اعتبار سے نہیں کرسکتی ہے کیونکہ اُسے 17 لاکھ کروڑ روپئے کی لاگت آئے گی ۔ گرونام سنگھ نے کہا کہ مرکز کو پہلے کی طرح یہی قیمت پر فصلیں خریدنا ہوگا اور اگر اس سسٹم کو برخاست کیا جاتا ہے یا بدلا جاتا ہے تو کسانوں کے لئے قابل قبول نہیں ۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ کسانوں کی گذر بسر کا معاملہ ہے اس لئے اس پر مفاہمت نہیں ہوسکتی ۔ اگر مرکزی حکومت اپنے ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو کسانوں کا احتجاج بھی جاری رہے گا اور آگے چل کر ساری قوم کو نقصان برداشت کرنا پڑے گا کیونکہ کسانوں نے مستقبل میں سپلائی روک دینے کی حکمت عملی بھی تیار رکھی ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس کی نوبت نہ آئے ، تاہم مرکزی حکومت نے دو ہفتوں سے احتجاجی کسانوں کے ساتھ غلط رویہ اختیار کررکھا ہے جو آگے چل کر ملک کے مفاد میں نقصاندہ ہوگا ۔