احتجاج ایک سال ، دہلی کی سرحد پر کسان جمع

   

نئی دہلی :کسان تحریک کو ایک سال مکمل ہونے پر ہریانہ، پنجاب، اترپردیش اور ملک کے دیگر حصوں سے کسان جمعہ کو دہلی کی سرحد پر جمع ہوئے ۔کسان گروپوں نے اس دوران پھر سے کہا کہ ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ آج سیکڑوں کی تعداد میں کسان تین زرعی قوانین کے خلاف تحریک کی پہلی سالگرہ منانے کے لئے سندھو، ٹکری، غازی پور اور دیگر سرحدوں پر پہنچے ہوئے ہیں۔وزیراعظم نریندرمودی کی طرف سے گزشتہ ہفتہ تینوں زرعی قوانین واپس لینے کا اعلان کرنے کے بعد بھ کسانوں کا احتجاج جاری ہے ۔ وہ طویل عرصہ سے اپنی مانگوں پر حکومت اسے قبول کرنے کی بات پر بضد ہیں۔ ان میں ایم ایس پی(کم از کم سہارا قیمت)پر گارنٹی قانون بنانابھی شامل ہے ، جو کہ ایم ایس سوامی ناتھ کمیشن کی طرف سے کی گئی سفارشات کے مطابق ہے ۔ اس کے علاوہ بجلی ترمیمی بل کو منسوخ کرنا، تحریک چلانے والے کسانوں کے خلاف معاملے واپس لینا اور احتجاجی مظاہرہ کے دوران جان گنوانے والے کسانوں کے اہل خانہ کو امدادی رقم دینا بھی انکی مانگ کا حصہ ہے ۔