نئی دہلی: کل جمعہ کی نماز کے بعد جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں توہین رسالت کے مجرمین کے خلاف اپنے دکھ اور تکلیف کا اظہار کرنے کے لیے جمہوری طریقہ پر جمع ہوئے نوجوانوں پر پولیس کا گولیاں چلانا افسوس ناک ہے۔ امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ کے امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے پولیس کی اس ظالمانہ کارروائی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس ملک کے آئین نے ہمیں جمہوری طریقہ سے اپنی ناراضگی کا اظہار اور احتجاج کرنے کا حق دیا ہے۔رانچی میں نوجوانوں نے حکمراں جماعت بی جے پی کے ترجمان نوپور شرما اور نوین کمار جندل کے ذریعہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز الفاظ کہے جانے کے خلاف پر امن اور جمہوری طریقہ سے اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ لیکن پولیس نے ان کے خلاف بے رحمانہ طریقہ اپنایا اور گولیاں برسائیں جس کی بنا پر ایک لڑکا مدثر ولد محمد پرویز ساکن لیک روڈ رانچی شدید طور زخمی ہوا ہے اور رمس(RIMS) میں وینٹی لیٹر پر زندگی اور موت کے درمیان ہے، اس کے علاوہ درجنوں بچے زخمی ہو کر اسپتال میں پڑے ہیں، کئی بچوں کو رمس لے جایا گیا ہے۔