مختلف مقامات پر سفر کی وجہ سے ضلع نظام آباد میں کورونا متاثرین کی تعداد میں ہر روز اضافہ
نظام آباد ۔ کورونا کی وباء ضلع میں دن بہ دن شدت اختیار کرتی جارہی ہے ضلع مستقر سے لیکر دیہی سطح پر ہر روز کسی نہ کسی کو وباء کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ریاستی حکومت ، ضلع کے وزیر ، ضلع کلکٹر اور عہدیداروں کی جانب سے کئی ہدایتیں دینے کے باوجود بھی عوام دیہی سطح سے لیکر ضلع سطح تک کسی نہ کسی مقام کا ہر روز دورہ کررہے ہیں جس کی وجہ سے مثبت کیسوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ پازیٹیو کیسس کی تعداد کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے نظام آباد میں کوویڈ ہاسپٹل قائم بھی کیا ہے اور 4 خانگی دواخانوں میں بھی علاج کی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔ ضلع میں تقریباً 1800 کیسس اب تک کرونا کے کیس درج کئے گئے ہیں اور اموات کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ سب سے زیادہ نظام آباد میونسپل کارپوریشن کے علاقہ میں ہر روز 50 تا 60 افراد متاثر ہورہے ہیں اس کے علاوہ بودھن ، آرمور ، بھیمگل میونسپلٹی کے علاقہ میں بھی ہر روز کیس درج ہورہے ہیں ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت ضلع کے تمام پرائمری ہیلت سنٹر، اربن ہیلت سنٹر میں بھی کرونا سے متعلق ٹسٹ کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے بھی کیسس سامنے آرہے ہیں ۔ ضلع کے سرکاری دواخانہ میں 160 افراد زیر علا ج ہے اور اب تک 51 افراد کی کرونا کے باعث موت واقع ہوچکی ہے ۔ نظام آباد میں سیاسی قائدین بھی اس وباء سے متاثر ہوتے جارہے ہیں ضلع کے تین اراکین اسمبلی باجی ریڈی گوردھن ( نظام آباد رورل ) ، گنیش گپتا ( نظام آباد اربن ) ، جیون ریڈی ( آرمور ) کے علاوہ ایم ایل سی وی جی گوڑ کو بھی کرونا ظاہر ہونے پر ان کا ٹسٹ کیا گیا اور یہ مثبت پائے گئے ان کے علاوہ ان کی اہلیہ اور ان کے فرزند بھی مثبت پائے جانے پر حیدرآباد میں ہی رہتے ہوئے ہوم آئسولیشن میں ان کا علاج کیا جارہا ہے نہ صرف ارکان اسمبلی ، ایم ایل سی بلکہ شہر کی مئیر اور سابق مئیربھی کرونا پازیٹیو پائے گئے تھے اور سابق مئیر کے سسرالی رشتہ دار بھی کرونا کی وجہ سے موت واقع ہوئی ہے ۔ ضلع میں ان حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے کنٹیمنٹ زون کو قرار دیتے ہوئے ان علاقوں میں بیارکٹس لگادئیے جارہے ہیں اور عوام کو گھروں تک محدود رہنے کی خواہش کی جارہی ہے ۔ لاک ڈائون میں نرمی کے بعد عوام بے خوف ہوکر ہر دن کسی نہ کسی مقام کا دورہ کررہی ہے اور کرونا کی وباء میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں ۔ اس کے علاوہ حیدرآباد ، مہاراشٹرا سے بھی ہر روز کئی افراد کے آنے جانے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے وباء پھیلتی جارہی ہے ۔ ضلع انتظامیہ کی جانب سے بار بار ہدایتیں جاری کرنے کے باوجود بھی عوام پر اس کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے ۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے رہنے کی صورت میں کیسس میں کمی ہونے کے امکانات ہیں اگر عوام احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی تو حالات سنگین ہونے کے امکانات ظاہر ہورہے ہیں ۔