ڈاکٹر خضر حسین جنیدی کا عوام کو مشورہ
حیدرآباد۔5ستمبر(سیاست نیوز) دنیا میں پائے جانے والے کورونا وائرس کی نئی قسم Mu(میو) کو تیزی سے پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے اوراس کے علاوہ جو کوئی قسم آئے گی اسے روکا احتیاط کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ ڈاکٹر خضر حسین جنیدی نے کورونا وائرس کی نئی قسم کی توثیق کے سلسلہ میں دریافت کرنے پر بتایا کہ وائرس فطری طور پر اپنے اقسام تبدیل کرتا ہے اور عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ انتباہ کے مطابق Mu (میو) نامی اس قسم میں ٹیکہ کے خلاف مزاحمت کی گنجائش موجود ہے لیکن اس کے باوجود اگر شہریوں کی جانب سے احتیاط کیا جاتا ہے اور ٹیکہ اندازی کو یقینی بنایاجاتا ہے تو ایسی صورت میں اس قسم کو بھی مزید پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر خضر حسین جنیدی نے بتایا کہ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں معمولی اضافہ دیکھا جارہا ہے لیکن اب شہریوں میں وائرس کی علامات اور احتیاط میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے جو کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ کو روکنے میں معاون ثابت ہورہا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ کورونا وائرس کی نئے نئے اقسام کی توثیق کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ جس طرح مدافعتی نظام وائرس کے مقابلہ کے لئے تیار ہوتا ہے اسی طرح وائرس مدافعتی نظام سے لڑنے کے لئے تیار ہوتا ہے اسی لئے نئی قسم سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ٹیکہ لینے کے ساتھ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہو ںنے بتایا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ڈیلٹا قسم نے جو صورتحال پیدا کی تھی ویسی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ اس نئی قسم میں نہیں ہے لیکن احتیاط اور ٹیکہ حاصل کرتے ہوئے ہی صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر خضر حسین جنیدی نے بتایا کہ اب جو کورونا وائرس کے متاثرین علاج کے لئے رجوع ہورہے ہیں ان میں بڑی تعداد ٹیکہ حاصل نہ کرنے والوں کی ہے اور ٹیکہ حاصل نہ کرنے والے کورونا وائرس سے متاثر ہورہے ہیں اور دوسروں کو پھیلانے کے مرتکب بن رہے ہیں اسی لئے جو ٹیکہ دیئے جا رہے ہیں ان ٹیکوں کے حصول کے لئے خود کے اور اپنے اطراف کے ماحول کو محفوظ بنانے میں خودشہری کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کے سبب گذشتہ چند ماہ کے دوران جو منفی سونچ پیدا ہوئی ہے اسے دور کرتے ہوئے ٹیکہ کے حصول کے رجحان میں اضافہ کرنے اور ٹیکہ کے متعلق پھیلنے والی بدگمانیوں کو دور کرتے ہوئے ٹیکہ اندازی کے فروغ کے اقداما ت کئے جانے چاہئے تاکہ کورونا وائرس کی مستقبل میں بھی آنے والی اقسام سے مقابلہ کی صلاحیت موجود رہے۔M