احمدآباد کے ہاسپٹل میں مذہبکی بنیاد پر وارڈس کی تقسیم

,

   

احمدآباد ۔ 15اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) حکومت کی ہدایت کے مطابق کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کو دواخانہ میں شریک کرنے پر مصدقہ مریضوں کو اور مشتبہ مریضوں کو رپورٹ آنے تک علحدہ وارڈس میں رکھا جاتاہے ۔ احمدآباد کے سیول ہاسپٹل میں کورونا وائرس کے مریضوں اور مشتبہ کیسیس کیلئے 1200بستر رکھے گئے ہیں ، لیکن وارڈس کو عقیدے کی بنیاد پر علحدہ کیا گیا ہے ۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر گنونتھ راتھوڑ نے بتایا کہ حکومت کی ہدایت پر ہندو مریضوں اور مسلمان مریضوں کیلئے علحدہ وارڈس بنائے گئے ہیں ۔ دوسری طرف ڈپٹی چیف منسٹر اور ہیلت منسٹر نتن پاٹل نے اس کا علم ہونے سے انکار کیا ہے ۔ ڈاکٹر رتھوڑ نے بتایا کہ عام طور پر خاتون اور مرد مریضوں کیلئے علحدہ وارڈس ہوتے ہیں لیکن ہاسپٹل میں ہندو اور مسلمان مریضوں کیلئے علحدہ وارڈس بنائے گئے ہیں ۔ وارڈس علحدہ بنانے کی وجہ سے معتلق سوال پر ڈاکٹر راتھوڑ نے بتایا کہ یہ حکومت کا فیصلہ ہے اور یہ سوال حکومت سے کیا جاسکتا ہے ۔ ہاسپٹل میں شریک 186 کے منجملہ 150 مریض کورونا وائرس مثبت پائے گئے ہیں ۔ 150 میں محض 40مریض مسلمان ہیں ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ’’انڈین ایکسپریس ‘‘ کو بتایا کہ عقیدے کی بنیاد پر وارڈس کی تقسیم سے متعلق وہ حکومت کے کسی فیصلے سے واقف نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کی تحقیقات کروائیں گے ۔