مقتول اسلم شبیر 2012 کے بم دھماکے کیس میں ضمانت پر رہا تھا
ممبئی۔ یکم ؍جنوری (ایجنسیز) مہاراشٹرا کے اہلیانگر ضلع (سابقہ احمد نگر) کے شری رام پور شہر میں چہارشنبہ کے روز دن دہاڑے فائرنگ کے ایک سنسنی خیز واقعہ میں 2012 کے جنگلی مہاراج (جے ایم) روڈ بم دھماکہ کیس کے ایک مبینہ ملزم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق قتل کی وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔ مقتول جنوری 2023 سے ضمانت پر رہا تھے۔پولیس نے مقتول کی شناخت اسلم شبیر شیخ عرف بنٹی جہاگیر دار کے طور پر کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ دوپہر تقریباً ڈھائی بجے اس وقت پیش آیا جب وہ ایک جنازے میں شرکت کے بعد موٹر سائیکل پر واپس لوٹ رہے تھے۔ شریرام پور کے مصروف علاقے میں ایک اور موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔اہلیانگر کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سومناتھ گھرگے نے بتایا کہ بنٹی جہاگیر دار پر دو گولیاں چلائی گئیں، جن میں سے ایک سینے میں اور دوسری ٹانگ میں لگی۔ انہیں تشویشناک حالت میں قریبی ہاسپٹل منتقل کیا گیا، تاہم علاج کے دوران ان کی موت واقع ہو گئی۔ پولیس نے حملہ آوروں کی تلاش کیلئے متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور قتل کے محرکات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ جنگلی مہاراج روڈ بم دھماکے یکم اگست 2012 کو پونے کی مصروف تجارتی سڑک جنگلی مہاراج روڈ پر ہوئے تھے۔ اس واقعہ میں 6 دیسی ساختہ بم نصب کئے گئے تھے، جن میں سے پانچ پھٹ گئے جبکہ ایک بم ناکارہ رہا۔ اس واقعہ میں ایک شخص زخمی ہوا تھا۔جنوری 2013 میں مہاراشٹر اے ٹی ایس نے جہاگیر دار کو احمد نگر سے گرفتار کیا تھا۔ تفتیشی حکام کے مطابق انھوں نے دھماکوں سے قبل مرکزی ملزم عمران خان کو ایک ریوالور فراہم کیا تھا۔ اے ٹی ایس کے مطابق جہاگیر دار شریرام پور کے ایک موجودہ این سی پی کارپوریٹر کا بیٹا تھا اور کیس کے چار دیگر ملزمین کی گرفتاری کے بعد وہ تفتیش کے دائرے میں آئے تھے۔
