لازمی خدمات میں میڈیا بھی شامل ‘ سپریم کورٹ وکلاء کا بیان
حیدرآباد ۔ 5؍ اپریل ( سیاست ڈاٹ کام)کورونا وائرس کے پھیلنے کے اندیشوں کے درمیان بعض ریزیڈنس ویلفیر اسوسی ایشنس اور گیٹیڈ ہاوزنگ سوسائٹیز کی جانب سے اخبارات کی سربراہی روک دئے جانے پر آزادی اظہار خیال کے حق کے بارے میں سوالات اٹھے گئے ہیں ۔ اور کٹ ماہرین قانون نے اس اقدام کو غیر قانون قرار دیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ سوربھ کرپال نے اس صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اخبارات بھی لازمی خدمات میں شامل ہیں ۔ اخبارات کی تقسیم روکنے کی کوئی سائنسی یا قانونی بنیاد نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کی لاک ڈاون سے استثنی کے واضح سرکاری رہنمایانہ خطوط ہیں ۔ درحقیقت واٹس ایپ پر چلائی جانے والی غلط اطلاعات کے سبب پرنٹ میڈیا کی طرف سے صحیح خبراسانی پہلے سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں میڈیا کو ہدایت کی تھی کہ وہ مختلف واقعات کے باضابطہ و تصدیق شدہ خبریں شامل کریں تاکہ شہریوں کو حقائق سے باخبر کیا جاسکے ۔ دیگر دو وکلاء وائراگ گپتا اور ڈی کے مہنت نے بھی رہائشی کالونیوں میں اخبارات کو تقسیم رکھنے کی کوششوں کو غلط اور غیر قانون قرار دیا ۔
