زرعی یونیورسٹی میں اگری ہب کا افتتاح ، کے ٹی آر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 30 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر آئی ٹی و بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ ذہنی اختراع کسی کی جاگیر نہیں ہے ۔ تلنگانہ حکومت نئی نئی ایجادات کرنے والوں کی ہمیشہ مکمل حوصلہ افزائی کرتی ہے ۔ پروفیسر جئے شنکر زرعی یونیورسٹی میں ’ اگری ہب ‘ کا افتتاح کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر ریاستی وزیر زراعت نرنجن ریڈی ریاستی وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی بھی موجود تھیں ۔ کے ٹی ار نے کہا کہ ملک کے تقریبا 60 فیصد افراد کا زراعت اور اس پر انحصار دوسرے شعبوں سے تعلق ہے ۔ زرعی شعبہ کی ترقی کے لیے آزادی سے اب تک لاکھوں نعرے دئیے گئے ۔ نعرے لگانے والوں نے زرعی شعبہ کو ترقی دینے کے لیے کبھی سنجیدہ کام نہیں کیا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں کی آمدنی 2022 تک دو گنی کردینے کا وعدہ کیا مگر اس کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے ۔ وہیں چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو زرعی شعبہ سے محبت ہے اور آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات کے لیے جو سنجیدگی ہے اس سے صرف 7 سال میں کئی کامیابیاں حاصل ہوئی ۔ عالمی سطح پر صرف 3.5 سال میں ایشیاء کا سب سے بڑا کالیشورم لفٹ اریگیشن پراجکٹ تعمیر کیا گیا ہے ۔ دریائے کرشنا اور گوداوری کے ہر خطرے پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ 7 سال میں دھان کی پیداوار میں دو گنا اضافہ ہوا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ لوگ نیوٹریشن غذاؤں پر توجہ دے رہے ہیں ۔ ریاست میں کسانوں کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ سبسیڈی پر تخم اور بینج دیا جارہا ہے ۔ بلا سودی قرض دیا جارہا ہے ۔ رعیتو بندھو ، رعیتوبیمہ اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے ۔ گوداموں میں اناج کے ذخیرہ کی گنجائش کو 4 لاکھ ٹن سے بڑھا کر 26 لاکھ ٹن کردیا گیا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ صرف پیداوار میں اضافہ کافی نہیں ہے ۔ کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ پروڈکشن ، پروڈکٹیویٹی ، پرافٹیلٹی کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ اس نظریے کو فروغ دینا وقت کا اہم تقاضہ ہے ۔۔ N