اذان کی وجہ سے طلبا، مریض، بوڑھے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے، کرناٹک کے وزیر نے دیا متنازع بیان

   

کرناٹک میں انتخابات ہونے والے ہیں، اور اسکےلیے ماحول تیار کیا جا رہا ہے ،اسی لیے حجاب، حلال گوشت،مسلم تاجروں کے بعد اب اذان پرشوشہ چھوڑاگیاہے۔کرناٹک میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست میں تازہ ترین مسئلے کوجنم دیا ہے۔ منگل کو پارٹی کے سینئر لیڈر اور پنچایتی راج کے وزیر کے ایس ایشورپا نے پڑوسی ریاست مہاراشٹر میں اذان پر جاری تنازعہ کو بھی اپنی ریاست میں گھسیٹ لیا۔کاروار میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کے ایس ایشورپا نے کہاہے کہ میں نے سنا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی وجہ سے طلبا کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس سے بچوں کی پڑھائی بھی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کے بارے میں میرا یہی نظریہ ہے۔ یہ مقابلہ نہیں ہے، لاؤڈا سپیکر پر اذان دی جائے یا ہنومان چالیسا پڑھی جائے۔اس کی وجہ سے طلباء، مریضوں اور بوڑھوں کو پریشانی ہوتی ہے۔پنچایتی راج کے وزیرکوکانگریس لیڈر پرینک کھڑگے کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جنہوں نے کہا کہ بی جے پی اور بجرنگ دل کے تمام کارکنان کو پیٹرول اور ڈیزل کا استعمال بند کردینا چاہیے، کیونکہ وہ بھی اسلامی ممالک سے درآمدکیے جاتے ہیں۔ وہاں اپنا اصلی ہندوتوا دکھائیں