نئے پلاٹس کیلئے لے آؤٹ منظوری ضروری،سابقہ رجسٹریشن دستاویزات پر دوبارہ رجسٹریشن
حیدرآباد۔ تلنگانہ حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے عوام کو راحت پہنچائی ہے۔ اراضیات اور جائیدادوں کے رجسٹریشن کے عمل کو آسان کرنے کیلئے حکومت نے ایل آر ایس اسکیم کی شرط کو منسوخ کردیا ہے۔ اس سلسلہ میں کمشنر و انسپکٹر جنرل رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس کی جانب سے احکامات جاری کئے گئے۔ حکومت نے ہائی کورٹ کی ہدایت پر غیر زرعی اراضیات و جائیدادوں کے رجسٹریشن کو قدیم طریقہ کار کے مطابق انجام دینے کا فیصلہ کیا۔ رجسٹریشن کے عمل میں ایل آر ایس اسکیم اہم رکاوٹ تھی۔ رجسٹریشن کے موقع پر پلاٹ یا اراضی کے لے آؤٹ منظور سے متعلق دستاویزات طلب کئے جارہے تھے۔ رئیل اسٹیٹ شعبہ اور عوام کے مسلسل مطالبہ پر حکومت نے ایل آر ایس کی شرط کو منسوخ کردیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلہ سے رجسٹریشن کے عمل میں تیزی پیدا ہوسکتی ہے اور کورونا لاک ڈاؤن سے معاشی مسائل کا شکار افراد کو راحت ہوگی۔ گذشتہ چند ماہ میں رئیل اسٹیٹ شعبہ رجسٹریشن کی نئی شرائط سے کافی متاثر ہوا تھا۔ انسپکٹر جنرل رجسٹریشن نے اپنے احکامات میں کہا ہے کہ پلاٹس اور جائیدادوں کے رجسٹریشن کے سلسلہ میں بعض دشواریوں کا سامنا تھا اور مختلف گوشوں سے حکومت کو نمائندگیاں موصول ہوئیں۔ احکامات میں کہا گیا ہے کہ اوپن پلاٹ اور جائیدادوں کا رجسٹریشن مالک کی جانب سے سابق میں کئے گئے رجسٹریشن کے دستاویزات کی پیشکشی کی صورت میں کیا جاسکتا ہے۔ احکامات میں کہا گیا ہے کہ کسی نئے پلاٹ کا رجسٹریشن اس وقت تک نہیں ہوپائے گا جب تک کہ اسے عہدیدار مجاز کی منظوری یا پھر وہ منظورہ لے آؤٹ کا نہ ہو۔ نئے پلاٹ کا مطلب ایسا پلاٹ جو پہلی مرتبہ رجسٹریشن کیلئے لایا گیا ہو یا پھر ڈیولپرس کی جانب سے پہلی مرتبہ فروخت کیا جارہا ہو۔ احکامات میں کہا گیا ہے کہ لے آؤٹ منظورہ پلاٹس اور سابق میں ایل آر ایس اسکیم کے تحت باقاعدہ بنائے گئے پلاٹس کے علاوہ ایسی عمارتیں جو سابق میں بی پی ایس یا بی آر ایس اسکیم کے تحت منظورہ ہیں اُن کے رجسٹریشن میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ تمام سب رجسٹرار دفاتر کو مذکورہ احکامات پر عمل آوری کی ہدایت دی گئی ہے۔
