زرعی اراضیات کی قدر میں 50 فیصد خالی اراضیات میں 35 اور اپارٹمنٹس قیمتوں میں یکم فروری سے عمل آوری کیلئے محکمہ رجسٹریشن کی تیاریاں
25 فیصد اضافہ کا امکان
حیدرآباد /21 جنوری ( سیاست نیوز ) ریاست میں پھر ایک مرتبہ رجسٹریشن کی قیمتوں میں اضافہ کامکان ہے ۔ حکومت نے زرعی و غیر زرعی جائیدادوں کی مارکٹ قدر پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے ۔ نئی مارکٹ قدر پر یکم فروری سے عمل کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق زرعی اراضیات کی مارکٹ قدر میں 50 فیصد خالی اراضیات کی قدر میں 35 فیصد اپارٹمنٹس کی قدر میں 25 فیصد کا اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ عام مارکٹ میں جن علاقوں میں زیادہ قدر ہو تو اس پر بھی نظرثانی کی گنجائش کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ آئندہ چار پانچ دن میں آرڈی اوز قیادت کی کمیٹیاں مارکٹ کی نئی قدر کا تقین کریں گی ۔ محکمہ رجسٹریشن یکم فروری سے اس پر عمل کا جائزہ لے رہا ہے ۔ گذشتہ سال ہی حکومت نے زرعی غیر زرعی جائیداد کی مارکٹ قدر کے علاوہ رجسٹریشن کے چارجس و اسٹامپس کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا ۔ اس طرح زرعی اور غیر زرعی جائیدادوں کی قیمتوں میں 20 فیصد کا اضافہ ہوا تھا ۔ پھر ایک مرتبہ مارکٹ قدر ، زرعی اور غیر زرعی جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ کا جائزہ لینے محکمہ اسٹامپس و رجسٹریشن کے حکام کا اجلاس ہوا ۔ تمام اضلاع میں اجلاس طلب کرکے ایک دو دن میں مارکٹ قدر کی تفصیلات حکومت کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ حکومت کی منظوری کے بعد اس پر عمل کیلئے احکام جاری کئے جائیں گے ۔ گذشتہ سال سے جائیدداوں کی قدر میں اضافہ کے علاوہ اضافی رجسٹریشن فیس اور اسٹامپس کی نئی قیمتوں پر عمل ہو رہا ہے ۔ حکومت نے زرعی اراضی فی ایکر کی قیمت 75 ہزار روپئے مقرر کی تھی کم قدر رہنے والی اراضی کی مارکٹ قدر 50 فیصد درمیانی قدر والی اراضی کی مارکٹ قدر میں 40 فیصد کا اضافہ کیا تھا ۔ اس کے علاوہ مارکٹ میں زیادہ قدر والی اراضی میں 30 فیصد کا اضافہ کیا تھا ۔ اس کے علاوہ خالی اراضیات کی اقل ترین قیمت 200 روپئے فی گز مقرر کی تھی ۔ اس کی قدر میں بھی 50 فیصد 40 فیصد اور 30 فیصد کا اضافہ کیا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ اپارٹمنٹس کی قدر میں فی اسکوائر فٹ میں ایک ہزار روپئے اقل ترین قیمت میں اضافہ کیا گیا ۔ جس میں بھی 20 تا 30 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ ن