بیروت : حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ صدر اردغان کا فلسطینی موقف پر بیان ترک عوام کے ضمیر کی عکاسی کرتا ہے جو فلسطین کو اپنے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں اور غزہ میں ظلم کے خلاف کھڑے ہیں۔ ہنیہ نے گزشتہ روز استنبول میں ملاقات کے بعد بیانات دیئے جہاں صدر اردغان نے ان کا استقبال کیا۔ ہنیہ نے فلسطینی موقف کے لیے اردغان کی حمایت کی تعریف کی اور کہاکہ انصاف و ترقی پارٹی کے پارلیمانی بلاک کے اجلاس میں صدر اردغان کا بیان، جس میں حماس کو قومی آزادی کی تحریک کے طور پر بیان کیا گیا اور اس کا قومی افواج سے موازنہ کیا گیا بنعشبہ ہمارے اور فلسطینی عوام کے لیے فخر کا باعث ہے۔ ہنیہ نے کہا کہ ہم خطہ میں ترکیہ کی حیثیت، اس کی علاقائی اور بین الاقوامی سیاست اور فلسطینی موقف سمیت غزہ کے بارے میں اس کے رویے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں آج بھی یاد ہے کہ کس طرح ترک عوام نے غزہ کی ناکہ بندی اٹھانے کے لیے بلیومرمرہ پر قربانیاں دی تھیں۔ یہ بتاتے ہوئے کہ اردغان کے ساتھ ملاقات میں اسرائیل کے خلاف تجارتی پابندیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ، ہانیہ نے کہا کہ یہ فیصلہ صہیونی دشمنوں کے خلاف اٹھایا گیا ایک اہم قدم ہے جو مسلمانوں کے مقدس مقامات بالخصوص مسجد الاقصی اور بالخصوص القدس کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ ہنیہ نے فلسطینی موقف کے لیے صدر اردغان اور ترک عوام کے فکری، تاریخی اور سیاسی رویے کی تعریف کی۔ ہنیہ نے کہا کہ غزہ کی انتظامیہ کے حوالے سے کچھ متبادل پیش کیے گئے ہیں لیکن ان کا کامیاب ہونا ممکن نہیں ہے۔