اردغان کی رومانیہ کے صدر سے ٹیلی فونک بات چیت

   

انقرہ : صدر رجب طیب اردغان نے گزشتہ روز رومانیہ کے صدر کلاؤس یوہانس سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ ایوان صدر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بات چیت میں ترکیہ اور رومانیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات، عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران صدر اردغان نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو اپنی اعلیٰ سطحی بات چیت میں اضافہ کرنا چاہیے اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کا میکانزم قائم کرنا مفید ہوگا۔ اس دوران جہاں نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے لوہانس کی امیدواری کو ایجنڈے میں لایا گیا، صدر اردغان نے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجوں بالخصوص دہشت گردی کے مقابلے میں ناٹو ممالک کی سلامتی اور مفادات کی خدمت کرنے والے ، اتحاد کو مضبوط کرنے ، میثاق کے یکجہتی کے جذبے کو برقرار رکھنے ، نیٹو کی دفاعی و سلامتی سے متعلق سرگرمیوں کو مضبوط بنانے اورمشاورت میں اپنے بنیادی کردار کو ترجیح دینے والے کسی سیکرٹری جنرل کا انتخاب کیا جانا چاہیے ۔ عراق، حشد الشعبی کے ہیڈ کوارٹر پر دھماکے، ایک ہلاک بغداد : عراقی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ بابل میں حشد الشعبی کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والے دھماکے میں آگ لگنے سے حشد الشعبی کا ایک رکن ہلاک اور فوج کے ارکان سمیت 8 فوجی زخمی ہو گئے۔ عراقی حکومت سے وابستہ سیکورٹی میڈیا نیٹ ورک کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ بابل کے شمال میں قالسو فوجی اڈے پر دھماکے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس میں حشد الشعبی کا ایک رکن ہلاک اور 8 فوجی زخمی ہوگئے۔ بتایا گیا کہ جائے حادثہ اور اس کے آس پاس ہونے والے دھماکوں اور آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ یونٹس سے ایک خصوصی ہائی ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی گئی۔ بیان میں یہ یاد دلایا گیا کہ بابل میں امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج کی جانب سے کوئی فضائی یا فوجی حملہ نہیں کیا گیا اور ایئر ڈیفنس کمانڈ کی رپورٹ کے مطابق اس بات کا تعین کیا گیا کہ دھماکے سے پہلے اور اس کے دوران بابل کی فضائی حدود میں کوئی ڈراون یا جنگجو موجود نہیں تھے۔ حشد الشعبی کے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ بابل کے شمال میں قالسو فوجی اڈے میں حشد الشعبی کے ہیڈکوارٹر میں دھماکہ ہوا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی ہے دھماکے مالی نقصان پہنچا ہے تو بعض افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “کچھ خبریں ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ نے آج عراق میں فضائی حملہ کیا، یہ خبریں درست نہیں ہیں۔ امریکہ نے آج عراق میں کوئی فضائی حملہ نہیں کیا۔