واشنگٹن : اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملے میں 3 امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔امریکی حکام نے سی این این کو بتایا ہے کہ ڈرون حملے میں 3 فوجی ہلاک اور 2 درجن سے زائد اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں یہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا پہلا بڑا واقعہ ہے۔امریکہ نے یمن کے حوثی گروپ کو دوبارہ عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہیکہ ڈرون حملہ شامی سرحد کے نزدیک اردن میں امریکی فوجی اڈے پرکیا گیا۔ ڈرون حملہ عراق اور شام میں سرگرم ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپوں نے کیا۔امریکی حکام کے مطابق امکان ہیکہ ڈورن شام کی حدود سے آیا ہے جس کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔امریکی سنٹرل کمانڈ کی جانب سے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہیکہ حملے میں 3 ہلاکتوں سمیت 25 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں امریکی صدر جوبائیڈن نے حملہ کی مذمت کی ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ حملے کے حوالے سے معلومات جمع کی جارہی ہیں تاہم ہمیں معلوم ہے کہ یہ حملہ عراق اور شام میں سرگرم ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپوں کی جانب سے کیا گیا ہے۔
