اردوغان کے بعد ثنا خان نے بھی فرانسیسی صدر میکرون کو دماغی علاج کا دیا مشورہ

,

   

اردوغان کے بعد ثنا خان نے بھی فرانسیسی صدر میکرون کو دماغی علاج کا دیا مشورہ

ممبئی: مشہور اداکارہ ثنا خان جنہوں نے حال ہی میں فلمی دنیا کو خیر آباد کہا تھا انہوں نے اپنے اسلام مخالف بیان پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پر حملہ کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں ‘دماغی علاج کی ضرورت ہے۔

29 اکتوبر ک ثناء خان نے فرانس میں حضرت محمد ﷺ کے کارٹون کیے جانے پر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ، “ہم اپنے پیارے نبی اکرمﷺ کی گستاخی کی مذمت کرتے ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی سب کا حق ہے لیکن اس سے آپ لوگوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتے، فرانسیسی صدر کو دماغی علاج کی ضرورت ہے۔

اور اداکارہ نے اس طرح کے ہیش ٹیگ استعمال کیے

#MacronApologizeToMuslim #ProphetMuhammad4All #FranceShameOnYou #BoycottFrenceProducts.”

ایمانوئل میکرون تنازعہ

ایمانوئل میکرون کے خلاف مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب اساتذہ سموئیل پیٹی کے سر قلم کرنے سے پہلے اس نے تقریر کی تھی ، جس پر اس ماہ کے شروع میں ان کے طلباء کو پیغمبر اسلام کے کارٹون دکھانے کے بعد ان کے اسکول کے قریب حملہ کیا گیا تھا۔ اور ایک اٹھارہ سالہ طالب نے استاد کو جان سے مار دیا تھا۔

اس حملے سے ایک دن پہلے میکرون نے خطاب کرتے ہوئے کہا: “اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو آج پوری دنیا میں ایک بحران کا سامنا کر رہا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “فرانس میں اسلام کو غیر ملکی اثرات سے آزاد کرنے کی ضرورت تھی”۔

اس کے بعد میکرون پوری دنیا میں ذاتی حملوں کا نشانہ بن گیا ہے۔ بدھ کے روز ہندوستان نے میکرون کے خلاف ذاتی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے “بین الاقوامی گفتگو کے سب سے بنیادی معیار کی خلاف ورزی” قرار دیا۔، اور بھارت ایک طرح سے فرانس کا ساتھ دے اپنی اسلام دشمنی کا واضح ثبوت پیش کیا۔

متعدد مسلم ممالک کے شہریوں نے دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں ان ممالک میں قطر ، مصر ، کویت ، پاکستان ، اردن ، الجیریا ، سعودی عرب اور ترکی بھی شامل ہیں جہاں پر دسیوں ہزاروں افراد کے ساتھ سڑکوں پر نکل کر فرانس کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلا رہے ہیں۔

جمعرات کو ممبئی کے محمد علی روڈ پر میکرون کے پوسٹر چسپاں کیے گئے تھے۔ پوسٹروں پر چلنے والی گاڑیوں اور ان کے اوپر چلنے والے لوگوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر ساری دنیا دیکھ لیا ہے۔