اردو آفیسرس کے سرویس رولس کو تیار کرنے موظف جوائنٹ سکریٹری کو ذمہ داری

   

سیاست کی خبر کا اثر
محکمہ اقلیتی بہبود سے میمو کی اجرائی ، کمیٹی کی عدم موجودگی اور رولس کی منظوری پر خدشات
حیدرآباد۔29جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں اردو آفیسرس کے تقررکے بعد ان کی خدمات سے متعلق رہنمایانہ خطوط اور قواعد کی عدم تیاری کے سلسلہ میں روزنامہ سیاست کے 13جنوری کے شمارہ میں شائع ہونے والی ’’اردو آفیسرس‘‘ کی ترقی میں حائل رکاوٹ سے متعلق خبر کی اشاعت پر محکمہ اقلیتی بہبود نے کاروائی کرتے ہوئے 16جنوری کو ایک ’میمو‘ جاری کیا جس میں اپا راؤ نامی مؤظف جوائنٹ سیکریٹری کو ’سرور رولز‘ کا مسودہ تیار کرنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے ۔ جناب ایم بی شفیع اللہ آئی ایف ایس نے میمو نمبر 2876/V&C/2021-14 جاری کرتے ہوئے گریڈ I اور گریڈ IIاردو آفیسرس کی خدمات کے سروس رولز کی تیاری کی ذمہ داری تفویض کرتے ہوئے اندرون 2ماہ اس سلسلہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے 16جنوری کو جاری کئے گئے میمو میں ایک مؤظف عہدیدار کو یہ ذمہ داری تفویض کی ہے جبکہ تلنگانہ محکمہ اقلیتی بہبود میں تقرر حاصل کرنے والے اردو آفیسر کے سروس رولز کی تیاری کے سلسلہ میں 22 اگسٹ 2023 کو جناب تفسیر اقبال نے اس سلسلہ میں 5 عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اندرون 15یوم رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی ۔سابق سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب تفسیر اقبال نے میمو نمبر 2876/V&C/2021-11جاری کیا تھا اور اس کمیٹی میں سیکریٹری ٹمریز‘ منیجنگ ڈائریکٹر تلنگانہ کرسچن کارپوریشن ‘ ڈپٹی سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود‘ ڈپٹی ڈائریکٹر کمشنریٹ اقلیتی بہبود اور ڈائریکٹر سیکریٹری اردو اکیڈیمی کو بہ اعتبار عہدہ ’’اردو آفیسرس‘‘ کے سروس رولز کی تیاری کا کام تفویض کیاتھا لیکن اس کمیٹی نے رپورٹ پیش کی یا نہیں اس بات کی وضاحت نہیں ہوپائی ہے جبکہ اب ایک رکنی مؤظف عہدیدار کو اس بات کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے کہ وہ اندرون 2 ماہ ’اردو آفیسرس‘ کی خدمات سے متعلق قواعد کی تیاری کے عمل کو مکمل کریں۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جوائنٹ سیکریٹری کے عہدہ پر وظیفہ پر سبکدوش ہونے والے عہدیدار کو یہ ذمہ داری تفویض کئے جانے پر مختلف گوشوں سے اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور کہا جا رہاہے کہ جب مؤظف عہدیدار کی جانب سے تیار کئے جانے والے سروس رولز کو منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا تو ایسی صورت میں اس پر بھی اعتراض کی گنجائش پیدا ہوگی اور کمیٹی نہ ہونے کی بنیاد پر ان رولز کی منظوری پر سوال کھڑا ہونے کا خدشہ ہے۔ اردو آفیسرس کا کہناہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کو چاہئے کہ ان کے سروس رولز کی تیاری کے بعد کسی بھی طرح کی قانونی لچک باقی نہ رہے اس کے لئے محکمہ کو کمیٹی کی تشکیل دیتے ہوئے سروس رولز تیار کروانے چاہئے یا پھر بہ اعتبار عہدہ جن عہدیداروں کو سابق میں یہ ذمہ داری تفویض کی گئی تھی ان سے ہی رپورٹ حاصل کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔حکومت کو اس سلسلہ میں فوری طور پر جاری کئے گئے میمو کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سروس رولز کی تیاری میں شفافیت اور اجتماعی مشاورت کے اصولوں کا خیال رکھنے کے اقدامات کرنے چاہئے اور بااختیار کمیٹی کی تشکیل کے ذریعہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے اور اقلیتی مفادات کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔3