اردو ادب اور ہندوستانیت کے موضوع پرچندی گڑھ میں سمینار

   

عزیز پاشاہ اور دیگر پروفیسرس کی شرکت
حیدرآباد۔/22 ستمبر، ( سیاست نیوز) سی پی آئی کی تنظیم آل انڈیا تنظیم انصاف کی جانب سے اردو ادب اور ہندوستانیت کے موضوع پر سمینارچندی گڑھ میں منعقدکیا گیا۔صدر تنظیم انصاف اور سابق رکن راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ نے صدارت کی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ سابق ڈائرکٹر آئی بی نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے درمیان تہذیبی اور لفظیاتی اشتراک مستحکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی مختلف زبانوں میں وہاں کی تہذیبوں کو جس طرح پڑھا اور سمجھا جاتا ہے اسی طرح اردو زبان میں بھی ہمیں ایک ساتھ پنجابی، دہلوی، لکھنوی اور دکنی تہذیب اور ہندو، سکھ اور اسلامی تہذیبوں کی جھلک ملتی ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ جس طرح اردو زبان کو ایک خاص مذہب سے جوڑ دیا گیا ہے دراصل ہندوستانی تہذیب کے منافی ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں اگر دو یا اس سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں تو وہاں کے لوگ تمام زبانوں سے یکساں محبت کرتے ہیں۔ اردو کے ساتھ بھی ہمیں یہی سلوک کرنا چاہیئے۔ پنجاب یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر علی عباس نے کہا کہ اردو کی پہلی مثنوی کدم راؤ پدم راؤ جو فخر الدین نظامی کی تحریر کردہ ہیں بہمنی دور میں لکھی گئی جس میں اس عہد کے دکنی کلچر کو پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو شعر و ادب میں ہندوستانیت کا گہرا رشتہ ہے۔ پنجابی زبان کے اسکالر پروفیسر سکھدیو، سماجی کارکن اوتار سنگھ پال، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر مدیح الرحمن، پروفیسر امیر سلطانہ ( پنجاب یونیورسٹی ) اور انصاف کے سکریٹری ایوب علی خاں نے مخاطب کیا۔