نئی دہلی :اردو ادب کی مشہور و معروف شخصیت اور اپنے افسانوں و ناولوں کے ذریعہ پوری دنیا میں دھوم مچانے والے مشرف عالم ذوقی بھی اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ کچھ دنوں سے وہ کافی علیل تھے اور اسپتال میں زیر علاج تھے۔ 19 اپریل کو انھوں نے آخری سانس لی ۔مشرف عالم ذوقی کے انتقال کی خبر ادبی حلقہ میں جیسے ہی پھیلی، رنج و الم کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ واضح رہے کہ 58 سالہ مشرف عالم ذوقی ہندوستان کے فکشن نگاروں میں اپنی منفرد تخلیقات کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے 14 ناول اور افسانوں کے 8 مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ موجودہ ہندوستان کے سیاسی پس منظر میں لکھے گئے ان کے ناول ’مرگ انبوہ‘ اور ’مردہ خانے میں عورت‘ نے عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کی۔ انھوں نے اپنے ہم عصر ادیبوں کے بہترین خاکے بھی لکھے۔ انھوں نے دیگر اصناف میں بھی متعدد کتابیں لکھیں۔ ان کا فکشن اردو تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندی اور دوسری زبانوں کے رسائل و جرائد میں بھی ان کی تخلیقات شائع ہوتی رہی ہیں۔ ان کی وفات سے ادبی حلقوں میں شدید رنج و غم کا ماحول برپا ہوگیا ہے۔
