اردو اکیڈیمی تلنگانہ کی کارکردگی ٹھپ

   


عہدیداروں کی قلت ، اسکیمات پر عمل آوری میں رکاوٹ
حیدرآباد۔2۔ستمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے صدرنشین کی نامزدگی کے باوجود اکیڈیمی کی کارکردگی میں کوئی بہتری نہیں لائی جاسکی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اردو اکیڈیمی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے عہدیداروں کی عدم موجودگی اردو اکیڈیمی کو فعال بنانے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت موجود اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور انہیں فعال کرنے کے لئے ان اداروں میں صدورنشین کے تقرر کے علاوہ انہیں بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں اقدامات کئے ہیں لیکن اسکیمات پر عمل آوری کے لئے عہدیداروں کی موجودگی ضروری ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے کسی بھی ادارہ میں کارکرد ‘ فعال اور مستقل عہدیداروں کی عدم موجودگی کے سبب ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں دشواریاں پیدا ہونے لگی ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی پہل نہیں کی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے اردو اکیڈیمی میں صدر کی حیثیت سے جناب خواجہ مجیب الدین کی نامزدگی کے بعد اردو اکیڈیمی کے لئے بجٹ کی منظوری بھی عمل میں لائی گئی لیکن مستقل ڈائریکٹر سیکریٹری نہ ہونے اور ڈائریکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کے پاس اس عہدہ کی زائد ذمہ داری ہونے کے باعث اکیڈیمی کی کارکردگی میں کوئی بہتری نہیں لائی جاسکی ہے۔ اردو اکیڈیمی کے ملازمین کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے صدرنشین کے تقرر کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ حکومت اکیڈیمی کے لئے مستقل عہدیدار کے تقرر کو یقینی بنائے گی لیکن ایسا نہ کئے جانے کے سبب کوئی اسکیم کا احیاء عمل میں نہیں لایا جاسکا ہے جو کہ مایوس کن ہے۔ ذرائع کے مطابق اقلیتی اداروں کی صورتحال اور عہدیداروں کی عدم موجودگی کے سلسلہ میں مشیر اقلیتی امور برائے حکومت تلنگانہ کو متعدد مرتبہ واقف کروایا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجود کوئی پیشرفت نہ کئے جانے کے سبب کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے بجٹ کی اجرائی کے باوجود بعض مخصوص عہدیدار اسکیمات کے لئے مجاز قرار دیئے جانے کی وجہ سے اسکیمات پر عمل آوری نہیں ہو پارہی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے بیشتر تمام ادارۂ جات بشمول تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کی کارکردگی مکمل طور پر ٹھپ ہو جانے کی وجہ سے اردو زبان کی ترقی و ترویج کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات غیر یقینی حد تک ناقابل عمل ہوچکے ہیں اور ان کی کارکردگی کو دوبارہ بہتر بنانے کے لئے لازمی ہے کہ ان اداروں میں فعال صدورنشین کے ساتھ فعال عہدیداروں کے تقرر کو بھی یقینی بنایا جائے۔م