اردو اکیڈیمی کے ابوالکلام آزاد اور مخدوم ایوارڈس کالعدم

   

Ferty9 Clinic

تحقیقاتی عہدیدار شفیع اللہ کی رپورٹ پیش، چار مختلف خلاف ورزیوں کی نشاندہی
حیدرآباد۔17 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اردو اکیڈیمی کی جانب سے اعلان کردہ ابوالکلام آزاد اور مخدوم ایوارڈس کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایوارڈس کے اعلان میں قواعد کی خلاف ورزی کی شکایات پر حکومت نے تحقیقات کا اعلان کیا تھا ۔ سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی بی شفیع اللہ کو تحقیقات کی ذمہ داری دی گئی جنہوں نے اپنی رپورٹ میں ایوارڈس کو کالعدم قرار دینے اور نئے ایوارڈس کے سلسلہ میں قواعد کے مطابق سلیکشن کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی۔ بی شفیع اللہ کی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت نے 13 جون کو اردو اکیڈیمی کی جانب سے طئے کئے گئے مولانا ابوالکلام آزاد اور مخدوم ایوارڈس کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ باوثوق ذرائع نے کہا کہ بہت جلد اس سلسلہ میں احکامات جاری کئے جائیں گے اور اردو اکیڈیمی کے قواعد کے علاوہ ایوارڈ یافتگان کے انتخاب کے سلسلہ میں جاری کردہ رہنمایانہ خطوط کی بنیاد پر کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئے گی۔ واضح رہے کہ 13 جون کو اردو اکیڈیمی نے پانچ رکنی ججس کی کمیٹی میں دونوں ایوارڈس کے ناموں کو قطعیت دی تھی۔ ایوارڈ یافتگان کے ناموں کے منظر عام پر آنے کے بعد میڈیا میں قواعد کی خلاف ورزی سے متعلق رپورٹس شائع ہوئیں۔ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خاں نے سکریٹری اقلیتی بہبود کو نوٹ روانہ کرتے ہوئے اس معاملہ میں ایوارڈس کو معرض التواء میں رکھنے اور سکریٹری ڈائرکٹر سے رپورٹ طلب کرنے کی خواہش کی تھی، جس کے بعد سکریٹری اقلیتی بہبود نے اردو اکیڈیمی کو میمو روانہ کرتے ہوئے ایوارڈ کی پیشکشی کو روکنے کی ہدایت دی۔ بی شفیع اللہ نے اکیڈیمی کے ریکارڈس کا جائزہ لینے کے بعد دو صفحات پر مشتمل رپورٹ سکریٹری کو پیش کردی جس نے پانچ خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ تحقیقاتی عہدیدار نے کہا کہ 12 جون کو سکریٹری ڈائرکٹر کی میعاد ختم ہوئی اور ان کے غیاب میں عجلت میں ایوارڈس یافتگان کا انتخاب کیا گیا۔ سلیکشن کمیٹی کے ارکان کا انتخاب قواعد کے مطابق نہیں ہے۔ ایوارڈس کے لئے کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی درخواستیں طلب کی گئیں۔ ایوارڈ یافتگان کا انتخاب ان کی خدمات کا بہتر طور پر جائزہ لئے بغیر کیا گیا۔ تلنگانہ میں اردو زبان اور ادب کی ترقی میں خدمات کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ تحقیقاتی افسر نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ڈاکٹر عقیل ہاشمی اور ایم اے ماجد کے نام سلیکشن کمیٹی اور ایوارڈ یافتگان کی فہرست میں پائے گئے جو قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ مذکورہ خلاف ورزیوں کی بنیاد پر بی شفیع اللہ نے حکومت سے خواہش کی کہ 13 جون کو طئے کردہ ایوارڈس کالعدم قرار دیئے گئے اور قواعد کے مطابق شفاف طریقہ سے ایوارڈ یافتگان کے انتخاب کے لئے سلیکشن کمیٹی تشکیل دی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ تحقیقاتی افسر کو اردو اکیڈیمی کی جانب سے ایک نوٹ داخل کیا گیا جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ سلیکشن کمیٹی کے اجلاس میں ایوارڈ یافتہ افراد شریک نہیں تھے۔ اگر اسے مان لیا جائے تب بھی انتخاب اس لئے درست نہیں ہوگا کیونکہ ججس کی تعداد پانچ ہونی چاہئے ۔ تین یا چار ججس پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل قواعد کی خلاف ورزی ہے۔