نئے قواعد و ضوابط مرتب کرنے ڈائرکٹر اکیڈیمی کو حکومت کی ہدایت
حیدرآباد۔/20جولائی، ( سیاست نیوز) حکومت نے آخر کار اردو اکیڈیمی کے مولانا ابوالکلام آزاد اور مخدوم ایوارڈز کو کالعدم قرار دیتے ہوئے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ سکریٹری ڈائرکٹر بی شفیع اللہ کی رپورٹ کی بنیاد پر سکریٹری اقلیتی بہبود بی مہیش دت ایکا نے اردو اکیڈیمی کو میمو نمبر 2084 جاری کرتے ہوئے ایوارڈز کو کالعدم قرار دینے کی اطلاع دی ہے۔ میمو میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے اس معاملہ کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد 13 جون کو منعقدہ اجلاس میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مخدوم ایوارڈز کو کالعدم قرار دیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے اکیڈیمی کے سکریٹری ڈائرکٹر کو ہدایت دی کہ وہ ایوارڈز یافتگان کے انتخاب کے سلسلہ میں قواعد و ضوابط اور اہلیت کا معیار طئے کریں تاکہ ایوارڈز کی پیشکشی کے سلسلہ میں مزید کارروائی کی جاسکے۔ میمو کی نقل ڈائرکٹر اقلیتی بہبود، اسپیشل سکریٹری برائے چیف منسٹر، وزیر بہبود برائے اقلیت و پسماندہ طبقات اور حکومت کے مشیر برائے اقلیتی بہبود کو روانہ کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اردو اکیڈیمی نے ججس کی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے 13 جون کے اجلاس میں مولانا ابوالکلام آزاد قومی ایوارڈز اور مخدوم ایوارڈز کیلئے شخصیتوں کے ناموں کا انتخاب کیا تھا۔ قواعد کی خلاف ورزی کے سلسلہ میں نہ صرف اخبارات میں شائع ہوا بلکہ مختلف گوشوں سے چیف منسٹر کے اسپیشل سکریٹری کو شکایت کی گئی۔ چیف منسٹر کے دفتر نے ان شکایات کو سکریٹری اقلیتی بہبود سے رجوع کیا جس کا تذکرہ میمو میں کیا گیا ہے۔ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی اُمور اے کے خاں نے قواعد و ضوابط کی پابندی کا جائزہ لینے کیلئے ڈائرکٹر اردواکیڈیمی سے رپورٹ طلب کرنے سکریٹری محکمہ کو مکتوب روانہ کیا تھا جس کے بعد سکریٹری اقلیتی بہبود نے ایوارڈز کی پیشکشی کو معرض التواء میں رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے اکیڈیمی کو میمو جاری کیا تھا۔ اسی دوران سکریٹری و ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے 4 سنگین قواعد کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے 13 جون کو طئے کردہ ایوارڈز کو کالعدم قراردینے کی سفارش کی تھی۔ حکومت نے اس سفارش کو قبول کرتے ہوئے کالعدم قرار دینے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔
