اردو زبان میں نعت اور منقبت کا وسیع ذخیرہ

   

شاہان ہند اور اولیاء کرام ، خاتم النبینﷺ اور صحابہ کرامؓ کے عقیدت مند، ڈاکٹر تقی عابدی کا لکچر
حیدرآباد /26 فروری ( راست ) حضور اکرم ﷺ کی شان میں سب سے شاندار نعت تو خود قرآن مجید میں ’’ محمد الرسول اللہ ‘‘ ہے ۔ قرآن کریم میں خاتم النبین کا نام چار مرتبہ ذکر کیا گیا ہے جبکہ آپ کی عظمت ، اخلاق فضائل کا کئی جگہ ذکر آیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار دانشور ، ادیب ، شاعر ، نقاد، ڈاکٹر ، سید تقی عابدی نے کیا ۔ وہ 24 فروری کی شام میڈیا پلس آڈیٹوریم میں ’’ نعت اور منقبت کی آفاقیت ‘‘ پر توسیع لکچر دے رہے تھے ۔ پروفیسر ایس اے شکور نے صدارت کی ۔ شہ نشین پر پروفیسر سید فضل اللہ مکرم ، ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز اور ڈاکٹر محمد شجاعت علی راشد موجود تھے ۔ ڈاکٹر سید تقی عابدی نے نعت اور منقبت کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نعت ’’ حدیث دل ‘‘ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اردو زبان میں نعت اور منقبت کا وسیع ذخیرہ ہے ۔ حضرت امیر خسروؒ کے کلام میں 33 نعتیہ کلام شامل ہیں ۔ دکنی ادب نعتیہ کلام سے مالا مال ہے ۔ مولانا حالی نے سب سے پہلے نعتیہ کلام اردو میں پیش کیا ۔ سر سید احمد خان نے بھی اپنی زندگی میں بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں ایک نعت لکھ کر نذرانہ عقیدت پیش کیا تھا ۔ غالب کے کلام میں بھی 9 اشعار کی نعت ملتی ہے اور غالب کا 251 اشعار پر معراج نامہ ایک شاہکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے بھلے ہی خدا کے وجود سے انکار کیا ہو مگر شانِ رسالت ﷺ سے کسی نے انکار نہیں کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ آقائے نامدار ﷺ کی شان میں ہر مذہب کے شعراء نے نعتیہ کلام لکھا ہے ۔ انہوں نے منقبت کے تاریخی پس منظر کو بیان کیا اور شہنشاہ ہمایوں ، بہادر شاہ ظفر ، نواب میر عثمان علی خان کا کلام پیش کیا ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مشہور منقبت ’’ شاہ مردان علی‘‘ کی تضمین حضرت شاہ خاموشی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام بزرگان دین نے منقبتیں لکھی ہیں جو ادب کا سرمایہ ہے ۔ اس موقع پر ڈاکٹر تقی عابدی کی مرتبہ تین ہزار منقبتی اشعار پر مشتمل کتاب ’’ برج شرف ‘‘ اور ان کی اپنی شخصیت پر مرتب دستاویزی کتاب ’’ حکیم الامت ‘‘ کی رسم اجرائی عمل میں آئی ۔ پروفیسر ایس اے شکور نے اپنی صدارتی تقریر میں ڈاکٹر سید تقی عابدی کو خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اردو کے 1561 سرکاری اسکول ہیں جن میں ایک لاکھ 45 ہزار بچے زیر تعلیم ہیں مگر میٹرک تک پہونچتے یہ تعداد 12 ہزار ہوجاتی ہے جن میں لڑکیوں کی تعداد 9 ہزار ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 32 فیصد اسکولس میں بجلی اور 42 فیصد اسکولس انفراسٹرکچر نہیں ہے ۔ قبل ازیں قرات کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا ۔ شاعر آغا سروش نے نعتیہ و منقبتی کلام پیش کیا ۔ ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز نے خیرمقدم کیا ۔ ڈاکٹر شجاعت علی راشد نے نظامت کے فرائض انجام دئے ۔ ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید نے شکریہ ادا کیا ۔ اس تقریب میں ڈاکٹر زورؔ کی صاحبزادی تسنیم زور ، ممتاز شاعرہ تسنیم جوہر ، ڈاکٹر روف خیر ، ڈاکٹر جاوید کمال ، ڈاکٹر گل رعنا بھی موجود تھے ۔