اردو طنز و مزاح نگاری کا آخری باب بھی تمام ہوا

   

انجمن ترقی پسند مصنفین کے صدر پروفیسر فاروقی بخشی و دیگر کا اظہار تعزیت
حیدرآباد ۔ 28 ۔ مئی : ( راست ) : مجتبیٰ حسین اردو طنز و مزاح نگاری کی کتاب کا وہ آخری باب تھے جس کی تابانی رہتی دنیا تک قائم رہے گی ۔ انہوں نے اردو طنز و مزاح نگاری کے وہ اعلیٰ نمونے پیش کیے اور اس میدان میں وہ مثال قائم کی جسے کبھی فراموش نہ کیا جاسکے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انجمن ترقی پسند مصنفین ، تلنگانہ کے صدر پروفیسر فاروق بخشی نے معروف طنز و مزاح نگار پدم شری مجتبیٰ حسین کے سانحہ ارتحال پر اپنے بیان میں کیا ۔ پروفیسر نے کہا کہ مجتبیٰ حسین نے ایک صنف کی حیثیت سے طنز و مزاح نگاری کے وقار کو قائم بھی رکھا اور اپنی اعلیٰ نگارشات کے ذریعے اس میدان میں نئے پیمانے مقرر کیے ۔ وہ ذہنی طور پر ترقی پسند جمہوریت نواز اور ایک مکمل سیکولر شخصیت کے مالک تھے ۔ ملک کے موجودہ حالات سے دل برداشتہ بھی تھے جمہوری اقدار کی زبوں حالی پر دل گرفتہ بھی ۔ اسی دل برداشتگی کی وجہ سے انہوں نے اپنا پدم شری ایوارڈ سرکار کو واپس کردیا تھا ۔ اس وقت کہے گئے ان کے الفاظ یاد کر کے دل بھر آتا ہے : ’’ جس جمہوریت کے لیے ہم نے لڑائی کی آج اس کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ۔ اس لیے میں حکومت کا کوئی ایوارڈ اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتا ۔ پورے ملک میں خوف کا ماحول ہے ۔ مجھے یہ بھی دکھ ہے کہ میں اپنے ملک کو کس حالت میں چھوِڑ کر جارہا ہوں ‘‘ ۔ وہ زندگی بھر ان نظریات کی پاسداری کرتے رہے جو اس ملک کی تاریخ ہے جسے آج بے دردی سے مٹایا جارہا ہے ۔ مجتبیٰ حسین کے ادھورے کاموں کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ان تمام دانشوروں ، ادیبوں اور شاعروں کی ہے جو روشن خیالی کو اپنا ضمیر اور ترقی پسند اقدار کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں ۔ اس موقع پر سابق ممبر راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ ، مشہور افسانہ نگار قمر جمالی ، پروفیسر بیگ احساس ، محترمہ اودھیش رانی ، پروفیسر یوسف رحمت زئی ، پروفیسر مجید بیدار ، محترمہ رفیعہ نوشین ، ڈاکٹر بی بی رضا خاتون ، ڈاکٹر آمنہ تحسین ، تجمل حسین اور دیگر دانشوروں نے بھی اپنے پیغامات میں رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔۔