اردو میڈیم جائیدادوں پر روسٹر سسٹم کے بغیر تقررات کا مطالبہ

   

Ferty9 Clinic


ضلع سنگاریڈی کے بشمول تلنگانہ کے مختلف اضلاع کے ٹرینڈ ٹیچرس کا احتجاجی دھرنا ، محمد عبدالقادر فیصل کے علاوہ دیگر معززین و قائدین کا خطاب

سنگاریڈی۔آواز کمیٹی اور تلنگانہ اسٹیٹ اردو ٹرینڈ ٹیچرس اسو سی ایشن کی جانب سے اردو میڈیم ٹی آر ٹی 2017 ڈی ایس سی کی 530 محفوظ جائیدادوں کو ڈی ریزرو کر تے ہوئے دستیاب اہل امیدواروں سے تلنگانہ سب آرڈینیٹ سرویس رولس H(2)22 کے تحت میرٹ اساس پر فوری تقررات کرنے کا مطالبہ کر تے ہوئے آج صبح تا سہ پہر دھرنا چوک اندرا پارک حیدرآباد پر احتجاجی دھرنا منعقد کیا جس میں تلنگانہ کے مختلف اضلاع بشمول ضلع سنگاریڈی کے اردو ٹرینڈ ٹیچرس نے شرکت کی ۔دھرنا میں مختلف سماجی ‘ تعلیمی اور اساتذہ تنظیموں کے ذمہ داران ‘ عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسرس اور اردو اساتذہ نے شرکت کی ۔دھرنا کو پروفیسر محمد انصاری ( عثمانیہ یونیورسٹی ) پروفیسر محمد نظیر( عثمانیہ یونیورسٹی ) ‘ محمد معزالدین صدر ‘ شیخ فاروق علی جنرل سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ اردو ٹیچرس اسو سی ایشن نے مخا طب کر تے ہوئے کہا کہ اردو میڈیم 2017 ٹی آرٹی کی مخلوعہ جائیدادوں کو ڈی ریزرو کیا جائے ۔2017 ٹی آر ٹی کے دستیاب اہل امیدواروں کے ذریعہ ان جائیدادوں پرتلنگانہ سب آر ڈی نیٹ سرویس رول 22(2)(h) کے تحت میرٹ کے اسا س پر تقررات کئے جائیں ۔ حکومت تلنگانہ نے تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے تحت اسا تذہ کے تقررات کا اعلامیہ اکٹوبر 2017 میں جاری کیا ۔ تلگو ‘ اردو ‘ انگریزی و دیگر میڈیم میں اسکول اسسٹنٹ ‘ لنگویج پنڈت اور پی ای ٹیز کیلئے نوٹیفیکشن نمبر 52/2017 اور سیکنڈری گریڈ ٹیچرس نوٹیفیکشن نمبر 53/2017 جاری کیا ۔ ان نوٹیفیکشن میں اردو میڈیم کی 900 مخلوعہ جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی جس میں سیکنڈری گریڈ ٹیچرس کی 636 مخلوعہ جائیدادیں ‘ اسکول اسسٹنٹ اردو 28 ‘ اسکول اسسٹنٹ ریاضی 38 ‘ اسکول اسسٹنٹ فزیکل سائنس ( طبیعات ) 53 ‘ اسکول اسسٹنٹ بیالوجی ( حیاتیات ) 34 ‘ اسکول اسسٹنٹ سماجی علم 43 ‘ اردو لنگویج پنڈت 26 اورپی ای ٹیز کی 42 مخلوعہ جائیدادیں بتلائی گئیں جس میں سیکنڈری گریڈ ٹیچرس کی 281 ‘ اسکول اسسٹنٹ اردو 11 ‘ اسکول اسسٹنٹ ریاضی 6 ‘ اسکول اسسٹنٹ فزیکل سائنس 5 ‘ اسکول اسسٹنٹ بیالوجی 10 ‘ اسکول اسسٹنٹ سماجی علم 16 ‘ اردو لینگویج پنڈ ت 9 اور پی ای ٹیز کی 4 جائیدادوں پر ہی ابھی تک تقررات کئے گئے ہیں۔ اس کے سا تھ سا تھ جسمانی معذورین ( پی ایچ) کے زمرہ میں 28 جائیدادوں پر تقررات کئے گئے ۔ اس طرح 900 کے منجملہ صرف 370 جائیدادوں پر تقررات کئے گئے ما باقی 530 جائیدادیں محفوظ زمرہ میں مخلوعہ ہیں ان مخلوعہ جائیدادوں پر دستیاب امیدوار موجود ناہونے کے باعث انہیں روکاگیا ۔ سابق رکروٹمنٹ میں تلنگانہ سب آر ڈی نیٹ سرویس رول(2)(h) 22 کے تحت روکی ہوئی مخلوعہ جائیدادوں کو ڈی ریزرو کر تے ہوئے اسی رکروٹمنٹ کے دستیاب اہل امیدواروں کے ذریعہ میرٹ کی اساس پر تقررات کئے جاتے تھے لہذا TRT-2017 کی 530 مخلوعہ جائیدادوں کو ڈی ریزرو کر تے ہوئے TRT-2017 کے دستیاب اہل امیدواروں کو سابق رکروٹمنٹ کے طرز پرمیرٹ کی اساس پر تقررات کئے جائیں اس ضمن گذشتہ 3 سالوں سے تلنگانہ اسٹیٹ اردو ٹرینڈ ٹیچرس اسو سی ایشن کی جانب سے حکومت کو بار بار اس جانب توجہ دلائی گئی ۔ اس سلسلہ میں سیاسی ‘ سماجی قائدین و وزراء سے ملاقاتیں و نمائندگیاں بھی کی گئیں جس کے نتیجہ میں سال2019 میں وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں اس بات کا اعلان کیا کہ جلد سے جلد محفوظ زمرہ کی جائیدادوں پر لمیٹیڈ رکروٹمنٹ منعقد کیا جائیگا۔اس کے علاوہ 6 ؍ڈسمبر 2019 کو وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیداروں کے ہمراہ ایک اجلاس منعقد کیا تھا جس میں انہوں نے جلدسے جلد لمیٹیڈ تقررات کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس اعلان کے ایک سال بعد بھی اس جانب کوئی کاروائی نہیں کی گئی حا لانکہ محکمہ تعلیم کی جانب سے ماہ جنوری 2020 میں ہی ان محفوظ جائیدادوں سے متعلق جانکاری وزیر اعلی کے چندرا شیکھر رائو تک روانہ کی جا چکی ہے ۔اب چونکہ ایک ہفتہ قبل وزیر اعلی کے ۔ چندرا شیکھر رائو نے مختلف شعبہ جات میں تقررات کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم TRT-2017 کی محفوظ زمرہ کی جائیدادوں کو ڈی ریزرو کرنے کا مسئلہ تعطل کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے اس سلسلہ میں تلنگانہ اسٹیٹ اردو ٹرینڈ ٹیچرس اسو سی ایشن حکومت تلنگانہ سے یہ گذارش کر تی ہیکہ وہ لیمٹیڈ رکروٹمنٹ کو منسوخ کر تے ہوئے TRT-2017 کی محفوظ زمرہ کی جائیدادوں کو ڈی ریزرو کر تے ہوئے تلنگانہ سب آرڈی نیٹ سرویس رول 22(2)(h) کے تحت TRT-2017 کے دستیاب اہل امیدواروں کے ذریعہ میرٹ کی اسا س پر تقررات کے احکامات جاری کریں۔اساتذہ کے بروقت تقررات نہ ہونے کی وجہ سے اردو میڈیم اسکولس میں زیر تعلیم طلباء کی تعلیم اور تعداد شدید متاثر ہو رہی ہے ۔ ترک تعلیم و بچہ مزدوری میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ حکومت انہیں مفت و لا زمی تعلیم کی ترغیب دیتی ہے مگر اساتذہ کی کمی سے ان کے اس حق کی پا مالی ہو رہی ہے آر ٹی ای کے تحت کسی بھی اسکول میں 10 فیصد سے زائد جائیدادیں مخلوعہ نہ ہو لیکن اردو میڈیم اسکولس کا حال اس کے برعکس ہے اساتذہ کے تقررات نا ہونے سے اردو میڈیم اسکولس بھی شدید کسمپر سی کا شکارہیں جبکہ اردو ہماری ریاست تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان ہے ۔اردو کو دوسری سرکاری زبان قرار تو دیا گیا ہے مگر آج بھی اردو زبان کے حق کی پا مالی ہو رہی ہے تلنگانہ اسٹیٹ اردو ٹرینڈ ٹیچرس اسو سی ایشن‘ حکومت تلنگانہ سے گذارش کر تی ہیکہ وہ اردو زبان کی ترقی و ترویج کیلئے ٹھوس و مثبت قدم اٹھائے۔جیسا کہ وزیر اعلی کے ۔ چندرا شیکھر رائو نے 9 ؍نومبر2017 کو اردو میڈیم اسا تدہ کی 900 جائیدادوں پر تقررات کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ الحاج ایم اے قادر فیصل اسٹیٹ سکریٹری تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے اردو ٹرینڈ ٹیچرس سے اظہار یگانگت کر تے ہوئے کہا کہ اردو ٹرینڈ ٹیچرس کو اپنے حق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنی چا ہیے ۔ انہوں نے احتجاجی تحریک میں شدت پید ا کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ تلنگانہ کے تمام اراکین اسمبلی و کونسل ‘ اراکین پا رلیمان ‘ کارپوریشن صدور نشین اور ریاستی وزراء کو محضر پیش کیا جائے تا کہ ارباب اقتدار تک ہماری آواز اور مسائل پہنچ سکیں۔اسمبلی کی بجٹ سیشن میں مسئلہ کو زیر بحث لانے اپوزیشن اراکین اسمبلی وکونسل سے ملاقات کر تے ہوئے مسئلہ کی تفصیلات فراہم کی جائیں اس کے علاوہ تمام اضلاع کے کلکٹر س اورڈی ای اوز کو بھی یادداشتیں پیش کی جائیں ۔ دھر نا میں ضلع سنگاریڈی سے محمد خلیل ‘ محمد اسلم ‘ محمد افتخار ‘ ایاز ‘ محمد ریاض ‘ متین سلطانہ اور دیگر نے شرکت کی۔