اردو میڈیم کی بقاء کیلئے اساتذہ کمر بستہ، بھوک ہڑتال شروع

   

پوسٹ کارڈس کے ذریعہ حکومت کو نمائندگیاں، ضلع نظام آباد کے مختلف مدارس کی خستہ حالی پر اظہار تشویش

نظام آباد ـ:اُردو میڈیم مدارس کی بقاء کیلئے محمد عبدالمقیت سابق کارپوریٹر کی قیادت میں سرکاری اور خانگی مدارس کے اساتذہ نے بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کیاہے ۔ گذشتہ دو دنوں سے اساتذہ کی جانب سے بھوک ہڑتال کی جارہی تھی آج حکومت کو پوسٹ کارڈ کے ذریعہ اپنی نمائندگی روانہ کی ہے اور اُردو میڈیم مدارس میں اساتذہ کی جائیدادوں کی بھرتی کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ اُردو کی بقاء کیلئے اساتذہ کمر بستہ ہوتے ہوئے مختلف تنظیموں کی تائید حاصل کرتے ہوئے ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے ۔ آج تیسرے دن پوسٹ کارڈ کے ذریعہ اپنی نمائندگی حکومت کو روانہ کی ہے ضلع نظام آباد میں کئی اُردو میڈیم مدارس میں جائیداد یں خالی ہیں ۔ سابق کارپوریٹر ایم اے مقیت ، سابق معاون رکن سید قیصر نے اس موقع پر بتایا کہ حکومت اُردو میڈیم مدارس کو برخواست کرنے کیلئے منصوبہ بند طریقہ سے اقامتی مدارس کا قیا م عمل میں لاتے ہوئے اُردو میڈیم مدارس کو ختم کرنے کی کامیاب کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی مدارس سے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اُردو میڈیم مدارس کیلئے جائیدادوں پر ابھی تک بھرتی نہیں کی جارہی ہے ۔ اساتذہ کی قلت کے باعث طلباء کی تعداد میں دن بہ دن کمی واقع ہوتی جارہی ہے اور طلباء کی تعداد کی کمی کو نشانہ بناکر اُردو میڈیم مدارس کو منصوبہ بند طریقہ سے حکومت برخواست کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ حکومت کی یہ کوشش منصوبہ بند ہے اساتذہ کی تقرری عمل میں لاتے ہوئے طلباء کی تعداد میں اضافہ کیلئے راہ فراہم ہوسکتی ہے لہذا فوری جائیدادوں کی بھرتی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا سیدقیصر قائد کانگریس پارٹی نے سرکاری اُردو میڈیم مدارس کی تباہ حالی پر تشویش و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک جانب منا بڈی ۔ منا اسکول اسکیم کے تحت سرکاری مدارس کا انتخاب عمل میں لاتے ہوئے ترقیاتی کام کے اعلانات کررہی ہے لیکن اُردو میڈیم مدارس کو بری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ گذشتہ 3 دنوں سے نظام آباد شہر کے قدیم سرکاری اُردو میڈیم ہائی اسکولس جن میں دھاروگلی ہائی اسکول ، وینگل رائو نگر اُردو ہائی اسکول ، کھوجہ کالونی پرائمری اسکول ، خلیل واڑی ہائی اسکول و دیگرکا دورہ کرنے پر حیرت کی انتہا ء نہ رہی کیونکہ ان سرکاری اُردو میڈیم مدارس میں زیر تعلیم طلباء فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔سید قیصر نے یکے بعد دیگرے سرکاری اُردو میڈیم مدارس کی تباہ حالی کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ دھاروگلی سرکاری اُردو میڈیم ہائی اسکول میں 320 طلباء زیر تعلیم ہے انہوں نے ہائی اسکول کی کلاسس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دہم میں 62 طلباء ، نہم میں 60 طلباء ، ہشتم میں 73 طلباء زیر تعلیم ہیں ۔ دھاروگلی سرکاری ہائی اسکول میں اساتذہ کی چار جائیدادیں مخلوعہ ہے جن میں اُردو کی دو جائیدادیں ، انگریزی اور سماجی علم کی فی کس ایک جائیداد مخلوعہ ہے ۔ سید قیصر نے کہا کہ نہ ہی مستقل اساتذہ کا تقرر کیا جارہا ہے اور نہ ہی کنٹراکٹ اساس پر اساتذہ کے تقررات کو حکومت یا محکمہ تعلیمات کی جانب سے یقینی بنایا جارہا ہے ۔ اس سرکاری اسکول میں بنیاد سہولتیں ندارد ہوکر رہ گئی ہے حکومت اور محکمہ تعلیمات کی لاپرواہی کا اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دھاروگلی سرکاری اُردو میڈیم ہائی اسکول کو پیلا اسکول کے نام سے مشہور ہے تقریباً15سال سے رنگ و روغن نہیں کیا گیا ہے نہ ہی پی ای ٹی کا تقرر کیا جارہا ہے ۔ دھاروگلی پرائمری اسکول میں 270 طلبا ء زیر تعلیم ہے صرف 4 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ 3 اساتذہ کی جائیدادیں مخلوعہ ہے جس سے طلباء کی تعلیم شدید متاثر ہورہی ہے ۔ انہوں نے اُردو سرکاری ہائی اسکول وینگل رائو نگر کا دورہ کیا جہاں پر 460 طلباء زیر تعلیم ہے ۔ صرف 4 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں ۔اساتذہ کی جائیدادوں پر تقررات نہ کرنے سے دہم کلاس میں صرف 16 طلباء زیر تعلیم ہے یہاں پر بھی طلباء زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں نہ ہی فرنیچر سربراہ کیا جارہاہے نہ برقی ، پانی ، بیت الخلاء اور دوسری بنیادی سہولتیں فراہم کی جارہی ہے ۔ مڈڈے میل انتہائی ناقص سربراہ کیا جارہا ہے جس کیخلاف سخت کاروائی کی ضرورت ہے ۔ خلیل واڑی اُردو میڈیم سرکاری ہائی اسکول جو فی الوقت آٹو نگر میں خدمات انجام دے رہا ہے یہاں پر 520 طلباء زیر تعلیم ہے اس سرکاری ہائی اسکول میں 8 اساتذہ کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں جن میں بائیولوجی کی2 جائیدادیں ، سماجی علم کی 2 جائیدادیں اور اُردو کی 2 جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔ خلیل واڑی پرائمری اسکول میں 500 طلباء زیر تعلیم ہے یہاں پر اساتذہ کی 7 جائیدادیں مخلوعہ ہے یہاں پر بھی بنیادی سہولتیں ندارد ہیں ۔ سید قیصر نے سرکاری اپر پرائمری اسکول کھوجہ کالونی کا دورہ کیا یہ سرکاری اسکول 2001 ء میں قائم کیا گیا تھا یہاں پر 170 طلباء زیر تعلیم ہے کرایہ کی عمارت میں چلائے اس سرکاری اسکول میں کلاس رومس قائم نہیں کئے گئے ہیں مقامی لوگوں کے تعاون سے ماہانہ 10 ہزار روپئے کرایہ ادا کیا جارہا ہے ۔ سید قیصر قائد کانگریس پارٹی نے کہا کہ قواعد کے مطابق ہر 30 تا 40 طلباء کے لئے ایک ٹیچر کا تقرر لازمی ہے لیکن حکومت اور محکمہ تعلیمات کی جانب سے یہ قواعد صرف تلگو اور انگریزی میڈیم میں ہی عمل کئے جارہے ہیں کئی تلگو مدارس ہے جہاں پر طلباء نہیں ہے لیکن تمام اساتذہ کا تقرر کیا گیا ہے اُردو میڈیم سرکاری مدارس کے ساتھ انتہائی جانبداری کا مظاہرہ کرنے کا سید قیصر نے الزام عائد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی او 317 کے تحت دوران تعلیم اساتذہ کا تبادلہ کردیا گیا جس سے طلباء کی تعلیم متاثر ہورہی ہے سرکاری اُردو میڈیم مدارس میں اساتذہ کی قلت کے علاوہ تمام بنیادی سہولتیں ندارد ہوکر رہ گئی ہے اس کے باوجود نام نہاد اساتذہ تنظیمیں صرف اپنے مفادات کیلئے نمائندگی کررہی ہے طلباء تنظیمیں SIO اور MSOتعلیمی مسائل کو حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں ۔ سید قیصر نے حکومت تلنگانہ کی جانب سے اقلیتی اقامتی مدارس کے قیام کا خیر مقدم کیا لیکن اس کی آڑ میں سرکاری اُردو میڈیم مدارس کو ختم کردینے کی سازش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امت کے ذمہ داران ، ملی تنظیموں ، طلباء تنظیموں ، اساتذہ تنظیموں پر زور دیا کہ اب بھی موقع ہے وہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں ورنہ امت مسلمہ کو تعلیم سے محروم کرنے کی سازش کامیاب ہوجائے گی۔