سینکڑوں امیدواروں کی جناب عامر علی خاں رکن قانون ساز کونسل سے نمائندگی پر چیف منسٹر اور چیف سکریٹری کو مکتوبات
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : حکومت کی جانب سے ڈی ایس سی کا اہتمام کرتے ہوئے 11 ہزار سے زیادہ ٹیچرس کا تقرر کیا گیا ہے ۔ جس سے نو منتخب ٹیچرس میں جہاں خوشی کی لہر دیکھی جارہی ہے وہیں اردو میڈیم کے امیدواروں میں مایوسی دیکھی جارہی ہے ۔ اردو میڈیم کے امیدوار شہر حیدرآباد کے علاوہ ضلعی سطح پر اپنا احتجاج درج کروارہے ہیں ۔ یہاں تک کے انصاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس کے ہیڈکوارٹر گاندھی بھون پر احتجاج کیا ۔ کانگریس کے عوامی منتخب نمائندوں سے ملاقات کرتے ہوئے اردو میڈیم اسکولس کے ساتھ انصاف کرنے کی نمائندگیاں کررہے ہیں ۔ اردو میڈیم کے امیدواروں نے دفتر سیاست پہونچکر نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست اور ایم ایل سی جناب عامر علی خاں سے بھی ملاقات کی اور حکومت سے نمائندگی کرنے کی اپیل کی ہے ۔ جس پر جناب عامر علی خاں نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور چیف سکریٹری شانتی کماری کو علحدہ علحدہ مکتوب روانہ کرتے ہوئے اردو میڈیم کے پسماندہ طبقات کے لیے مختص جائیدادوں کو ’’ ڈی ریزرویشن ‘‘ کرنے کی اپیل کی ہے ۔ اس کے علاوہ کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل ٹی جیون ریڈی اور سابق رکن اسمبلی جگاریڈی نے بھی چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اردو میڈیم امیدواروں کے ساتھ انصاف کرنے کی اپیل کی ہے ۔ دراصل ڈی ایس سی 2024 میں اردو میڈیم کی 1,183 جائیدادوں کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تاہم ایس سی ، ایس ٹی اور دیگر تحفظات کی بدولت 666 جائیدادوں پر تقررات نہیں ہوسکے ۔ لمبے عرصے سے یہ جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔ امیدواروں کی عدم دستیابی سے تقررات نہیں ہورہے ہیں جس سے اردو میڈیم اسکولس میں اردو کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں اور طلبہ کی تعلیم متاثر ہورہی ہے ۔ جب تک پسماندہ طبقات کے لیے مختص ان جائیدادوں کو ڈی ریزرویشن نہیں کیا جاتا تب تک ان جائیدادوں پر تقررات ہونے کے امکانات کم ہیں ۔ ان جائیدادوں پر تقررات اُسی وقت ہی ممکن ہے جب انہیں عام زمرے میں تبدیل کیا جاتا ہے ۔ ایم ایل سی جناب عامر علی خاں ریاست کے مختلف اضلاع کے دورے کررہے ہیں وہاں اردو میڈیم امیدواروں کی بھاری تعداد ان سے ملاقات کرتے ہوئے پسماندہ طبقات کے لیے مختص اردو میڈیم کی جائیدادوں کو ڈی ریزرویشن کراتے ہوئے انہیں ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کی نمائندگی کررہی ہیں ۔ اردو میڈیم جائیدادوں میں پسماندہ طبقات کے امیدوار دستیاب نہیں ہیں تو انہیں مخلوعہ رکھنا اردو میڈیم امیدواروں اور طلبہ سے نا انصافی ہے ۔ لہذا حکومت بالخصوص چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کریں ۔ وزارت تعلیم کا قلمدان بھی اس وقت چیف منسٹر کے پاس موجود ہے ۔ اردو میڈیم امیدواروں کے مسائل کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ پسماندہ طبقات کے لیے مختص کردہ جائیدادوں کو ڈی ریزرویشن کرنے کا عمل کوئی نیا نہیں ہے سابق چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے بھی اس پر عمل کرتے ہوئے اردو میڈیم اسکولس کے ساتھ انصاف کیا تھا ۔ وائی ایس آر حکومت نے ڈی ایس سی 2006 اردو میڈیم کے بیاک لاگ جائیدادوں کو ڈی ریزور کرتے ہوئے 12 فروری کو 2008 جی او ایم ایس نمبر 21 جاری کرتے ہوئے ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی زمرے کے تحت خواتین کو مختص کیے گئے جائیدادوں کو عام زمرے میں تبدیل کرتے ہوئے خواتین کے تقررات کو یقینی بنایا تھا ۔ اس عمل کے ذریعہ اس وقت ریزویشن کے تحت جائیدادوں کو ڈی ریزوریشن کرتے ہوئے عام زمرے کی جائیدادوں میں تبدیل کیا گیا تھا ۔ وہ عمل بھی کانگریس کے دور حکومت میں کیا گیا تھا ۔ اب چیف منسٹر ریونت ریڈی سے امید کی جارہی ہے کہ وہ اردو میڈیم امیدواروں کی چہروں پر مسکراہٹ بکھرنے کے لیے دوبارہ مختص جائیدادوں کو ڈی ریزوریشن کریں گے ۔۔ 2