حیدرآباد۔ تنظیم جدوجہد اردو نے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے اپیل کی کہ وہ ریاست کے اردو میڈیم اسکولس میں اردو ٹیچرس کی 553 مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے احکام جاری کریں۔ تنظیم جدوجہد اردو اور داغ دہلوی فاؤنڈیشن حیدرآباد کے عہدیداروں نے میڈیا پلس آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ2017 میں تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے ریاست کے اردو میڈیم اسکولس میں ٹیچرس کی 900 جائیدادوں کے تقررات کے سلسلہ میں اعلامیہ 52 اور 53 جاری کیا تھا۔ تاہم صرف 347 اردو ٹیچرس کے تقررات عمل میں آئے۔ 553 جائیدادوں پر اہل ایس سی، ایس ٹی اور بی سی امیدوار دستیاب نہ ہونے پر تقررات تاحال نہیں کئے گئے۔ ڈاکٹر نذیر احمد جنرل سکریٹری تنظیم جدوجہد اردو نے کہاکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اردو میڈیم اسکولس میں ٹیچرس نہ ہونے کی وجہ سے ان طلبہ کا مستقبل غیر یقینی ہوگیا ہے۔ نذیر احمد نے بتایا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے 9 نومبر 2017 کو تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں وعدہ کیا تھا کہ وہ سکنڈری گریڈ ٹیچرس، لینگویج پنڈت اور فزیکل ایجوکیشن ٹیچرس کی جائیدادوں پر جو ایس سی، بی سی، ایس ٹی زمرہ کے تحت محفوظ ہیں مذکورہ زمرہ جات سے امیدواروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایسے تمام زمرہ میں دستیاب ٹیچرس کے تقررات کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے اَن گنت اقدامات کئے ہیں ۔ تاہم اردو میڈیم کے اسکولس کے ٹیچرس کے تقررات کو نہ جانے کیوں نظر انداز کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے علاوہ مسٹر کے ٹی راما راؤ، جناب محمد محمود علی اور محترمہ سبیتا اندرا ریڈی کو بھی یادداشتیں روانہ کی گئی ہیں۔ داغ دہلوی فاؤنڈیشن حیدرآباد کے جناب سید مسکین احمد اور جناب محمد معز الدین نے بھی خطاب کیا۔