اردو کو اپنوں نے بھی حاشیہ بردار کردیا

   

سلطان محی الدین سابق ڈپٹی سرپنچ کوڑنگل کا اظہار افسوس

کوڑنگل -09 نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) رہبر بھون کوڑنگل میں یوم ڈاکٹر علامہ اقبال و یوم عالمی یوم اردو عظیم الشان پیمانے پر منایا گیا ڈاکٹر علامہ اقبال کی تصویر پر پھول چڑھائے کر گل ہایے عقیدت پیش کرتے ہوئے سلطان محی الدین غوثن وجودی سابق ڈپٹی سرپنچ کوڑنگل نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم تمام بڑے ہی جوش و خروش کے ساتھ یوم اردو منارہے ہیں اردو زبان ہندوستان کی وہ شریں زبان ہے جس کے لب و لہجے نے دلوں کو جوڑنے کا کام کیا ہے بلا امتیاز مذہب و ملت اس ملک کے لوگوں نے اس زبان کو گلے لگایا تھا لیکن عہد رفتہ کے ساتھ اس زبان کو نہ صرف ایک طبقہ تک محدود کرنے کی کوشش کی اس طبقے نے بھی اس زبان کو فراموش کردیا فکر معاش کے بہانے سے اس زبان کو اپنوں نے ہی اس طرح حاشیہ بردار کر دیا کہ آج اس سے جڑا ایک محدود طبقہ اس کا جشن مناکر خوش ہورہاہے اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اردو کے دامن کو تار تار کرنے میں جہاں متعصب عناصر نے اپنا کردار ادا کیا اور اس کو ایک غیر ملکی زبان قرار دیا وہیں اپنوں نے بھی اس کے ساتھ ایسا سوتیلا سلوک کیا کہ آج ملک کی سب سے جوان زبان ہونے کے باوجود بھی دیگر زبانوں کے مقابلے اپنے وجود کے لئے جدو جہد کرنے پر مجبور ہے یس یم غوثن نے کہا کہ حکومتوں نے جہاں اْردو کو اپنے گلیاروں سے بے دخل کردیا تو وہیں اردو کا دم بھرنے والوں نے زبانی جمع خرچ تو کی لیکن اپنے ہی گھروں اس زبان کو بڑی بے رخی کے ساتھ بے دخل کردیا انہوں نے کہا کہ اردو اسکولوں میں تعلیم کا معیار دم توڑ رہا ہے ان اسکولوں میں داخلہ نہ ھونے کے برابر ہیں اگر داخلہ ہو بھی رہے ہیں تو وہاں ایسے اساتذہ نہیں جو ان بچوں کو معیاری تعلیم سے آراستہ کرکے ان کے مستقبل کو سنوارسکیں یس یم غوثن نے کہا کہ ہم سب کو اردو اردو بولنے سے کچھ نہ ہوگا اسکے لیے میدان عمل میں آنا ہوگا اس کے لیے منصوبہ بھی بنانا چاہئے ۔اس موقع پر کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔