اردو کو دوسری سرکاری زبان کے طور پر عمل آوری میں حکام ناکام

   

محبوب نگر میں پرجاوانی کے دوران آل میوا کے قائدین کی ضلع کلکٹر کو یادداشت

محبوب نگر ۔ 24 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) اردو کو دوسری سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ضلع کلکٹر کو جامع یادداشت حوالے کی گئی۔ پرجاوانی پروگرام میں آل میوا کے ریاستی چیئرمین شیخ فاروق حسین نے ضلع کلکٹر کو ایک عرضداشت پیش کی جس میں محبوب نگر ضلع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کے طور پر فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تلنگانہ حکومت نے پہلے ہی ضلع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں لیکن متعلقہ عہدیدار ان احکامات پر عمل آوری میں ناکام رہے ہیں۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ اس پر فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے۔انہوں نے اپنی درخواست میں درج ذیل مطالبات پیش کیے:تمام سرکاری دفاتر میں افسران کے نام بھی دفتری بورڈز پر اردو میں لکھے جائیں۔تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں پر جگہوں کے نام بھی اردو میں لکھے جائیں۔بورڈز پر حکومت کی جانب سے منعقد کیے جانے والے پروگراموں، سنگ بنیادوں اور افتتاحوں کے نام اردو میں لکھے جائیں۔ضلع میں منظور شدہ اردو مترجم کی اسامی کو فوری طور پر پْر کیا جائے تاکہ اردو زبان کو اس کا جائز مقام اور عزت ملے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر 30 دنوں کے اندر اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو وہ دوبارہ ضلع کلکٹر سے ملاقات کریں گے۔کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر محمد نظام الدین اور دیگر معززین نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔