نرمل کے نامور شاعر کو ریاستی وزیر اندرا کرن ریڈی کا خراج عقیدت ‘ ورثاء سے اظہار تعزیت
نرمل ۔ نرمل کے معروف شاعر و صحافی سید عقیل اسعدؔ کی اچانک موت سے اردو داں طبقہ کا ناقابل تلافی نقصان ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ریاستی وزیر جنگلات و امکنہ اے اندرا کرن ریڈی نے سید جلیل ازہر کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران کیا ۔ واضح رہے کہ سید عقیل اسعدؔ جو ایک نامور شاعر اور صحافی ہے اسٹاف رپورٹر روزنامہ سیاست سید جلیل ازہر کے حقیقی بڑے بھائی ہے جن کا اسی ماہ 19؍ جنوری کو دوپہر قلب پر حملہ کے باعث انتقال ہوگیا تھا ۔ آج ریاستی وزیر برائے اندرا کرن ریڈی صدرنشین بلدیہ ایشور ‘ ریاستی سکریٹری ٹی آر ایس ستیہ نارائنا گوڑ سابق ڈی سی سی بی چیرمین رام کشن ریڈی نے سید جلیل ازہر کی ہائش گاہ پہنچ کر عقیل اسعد کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ۔ اور مرحوم کے فرزندان سید سہیل امین ‘ سید نبیل حسین سے بھی ملاقات کرتے ہوئے انہیں صبر سے کام لینے کی تلقین کی ۔ ریاستی وزیر نے بتایا کہ عقیل اسعدؔ خود ایک اچھے شاعر اور نرمل میں کئی ایک مشاعروں کا انعقاد عمل میں لاتے ہوئے اردو کے فروغ کے لئے کافی محنت کی ہے ۔ مشاعروں میں مجھے بحیثیت مہمان خصوصی مدعو کیا جاتا تھا اور ہم بھی ملک کے مختلف علاقوں سے مشاعروں میں شرکت کے لئے آئے شعراء کا کلام سن کر لطف اندوز ہوتے تھے جبکہ ان مشاعروں کے لئے عقیل اسعدؔ کی کافی محنت ہوا کرتی تھی جس کو اردوداں طبقہ کبھی فراموش نہیں کرسکتا ۔ واضح رہے کہ عقیل اسعدؔ ریاست مہاراشٹرا ‘ متحدہ ریاست آندھراپردیش کے علاوہ کئی مقامات پر مشاعروں میں اپنے اشعار سنایا کرتے تھے جبکہ حیدرآباد کے شنکرجی میموریل سوسائٹی جو بڑے پیمانہ پر نمائش گراؤنڈ پر ہر سال مشاعرہ منعقد کرتی ہے ان مشاعروں میں ان کو غزل سنانے کااعزاز رہا ہے ۔ سید عقیل اسعدؔ کو شاعری کا بچپن سے شوق رہا ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ شاعری ان کی وراثت رہی ہے اس لئے کے ان کے والد ابو سعد جو مرحوم ڈاکٹر زورشاذ تمکنت کے ساتھ مشاعروں میں شرکت کرتے ہوئے اپنے کلام کے ذریعہ مقبول تھے جبکہ ان کی تخلیقات کا مجموعہ کلام زیر سرپرستی جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست شائع ہوا جو ’’ آبشار‘‘ کے نام سے ہے ویسے عقیل اسعدؔ کا بھی ایک مجموعہ کلام ان کی حیات میں شائع ہو کر منظر عام آچکا ہے ۔
