اردو یونیورسٹی کا منفر د کیلنڈر، گاندھی، نہرو کے بشمول اہم رہنماوں کے اردو خطوط

   

حیدرآباد14/جنوری(سیاست نیوز) ہندوستان کی واحد قومی اردو جامعہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، اردو زبان کی ترویج و تشہیر کے اپنے مقصد کی تکمیل نہ صرف تعلیم کی فراہمی کے ذریعہ کر رہی ہے بلکہ ہر سال اردو سے جڑے کسی موضوع پر نئے کیلنڈر کی اشاعت بھی اب اس مہم کا اہم حصہ بن چکی ہے ۔ یونیورسٹی نے 2015 سے متواتر اردو سے مربوط اہم موضوعات کو اپنے دیواری کیلنڈر کا موضوع بناتے ہوئے شائقین اردو کی توجہ مبذول کی ہے ۔ کیلنڈر اگرچیکہ تواریخ اور تعطیلات کا جدول ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ اردو کی ترقی، ترویج اور تشہیر میں ممد و معاون بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ اردو یونیورسٹی کے سال 2020 کے نئے اور دیدہ زیب کیلنڈر کے تعلق سے حیدرآباد کے اردو روزنامہ سیاست کی انگریزی ویب سائٹ پر جناب دانش ماجد کا ایک معلوماتی فیچر بھی اپ لوڈ کیا گیا ہے ۔اس میں اردو یونیورسٹی کے نئے انداز کے کیلنڈر کی خصوصیات کا تفصیلی احاطہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کیلنڈر کے جو نفیس آرٹ پیپر پر چھاپا گیا ہے بالائی وسطی حصہ میں اردو اور انگریزی کی تحریریں پہلو بہ پہلو نظر آتی ہیں۔ 6 صفحات پر مشتمل کیلنڈر کو ’نقوشِ اردو‘ کا عنوان دیا گیا ہے ۔ جنوری – فروری پر مشتمل پہلا صفحہ مہاتما گاندھی کے اردو خطوط کی تحریروں اور اس کی انگریزی تلخیص پر مشتمل ہے ۔ کیلنڈر کے موضوع سے ہم آہنگی کے لیے ڈیزائنر نے بوسیدہ کاغذ کا پس منظر فراہم کرتے ہوئے دیدہ زیبی میں اضافہ کیا ہے ۔ اس میں زبان کا نیم دھندلا متن ہے ۔غیر اردو داں قارئین بھی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ خطوط مہاراشٹرکے واردھا سے مہاتما گاندھی نے لکھے تھے ۔ بائیں جانب کے خط کا آغاز اردو میں کچھ اس طرح ہے :’بھائی محمد حسین،آپ کا خط ملا،ڈاکٹر اقبال مرحوم کے بارے میں کیالکھوں؟لیکن اتنا تو میں کہہ سکتا ہوں کہ جب ان کی مشہور نظم ‘ہندوستان ہمارا’پڑھی تو میرادل بھرآیا‘ اس خط کے اختتام پر مہاتما گاندھی نے اردو میں اپنے دستخط کے طور پر آپ کا ‘ایم کے گاندھی’ لکھا ہے ۔ اسی صفحے پر گاندھی جی کی جانب سے مولانا سلیمان ندوی کے نام تحریر کردہ خط کی نقل بھی موجود ہے ۔ ورق پلٹنے پر اردو میں مزید دو خطوط ملتے ہیں۔ ان کے ساتھ آزادی سے پہلے طبقہ اشراف میں شادی کے دعوت نامے کا ایک نادر نمونہ موجود ہے ۔ یہ دعوت نامہ موتی لال نہرو کی طرف سے ان کے فرزند جواہر لال کی شادی کا ہے جو ہندوستان کے پہلے وزیراعظم بنے ۔ اس دعوت نامہ کے نیچے خود پنڈت نہرو کا خط ہے جو انہوں نے اپنی بیٹی اندرا کی شادی کے موقع پر قریبی دوستوں کو دعوت نامے کے طور پر بھیجا تھا۔ اسی صفحے پر پنڈت نہرو کا ایک اور خط ہے جو انہوں نے دارالمصنفین کے ناظم مولوی مسعود علی ندوی کے نام تحریر کیا تھا۔ دیگر اوراق الٹنے پر اہم قومی رہنماوں مولانا ابوالکلام آزاد اور راجندر پرساد کے درمیان آزادی سے قبل خط و کتابت کے نمونے نظر آتے ہیں۔ شہید اشفاق اللہ خان کی جیل میں لکھی گئی ڈائری کے صفحات اور شہید بھگت سنگھ کا دل کو جھنجھوڑدینے والا خط بھی شامل ہے جو انہوں نے اپنی پھانسی سے 20 دن پہلے اپنے بھائی کو لکھا تھا، جو فصیح اردو میں ہے ۔دیگر صفحات ڈاکٹر ذاکر حسین، مولانا حسرت موہانی، مولانا الطاف حسین حالی اور حکیم اجمل خان کے خطوط سے مزین ہیں۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے پبلک ریلیشن آفیسر عابد عبدالواسع نے کہااس کیلنڈر کے ذریعہ ہم نے اس بات پر زور دینے کی کوشش کی ہے کہ اردو ایک عوامی زبان ہے نہ کہ کسی مخصوص طبقہ کی۔ اہم قومی رہنماوں و سرکردہ شخصیات کی اردو تحریریں خود اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اسی پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے یونیورسٹی کی تعلقات عامہ کی ٹیم نے 2015 میں اپنا پہلا موضوعاتی کیلنڈر شائع کیا تھا۔جس کا ہر صفحہ اردو خطاطی کے نمونوں کی مختلف اقسام پر مشتمل تھا۔ ممتاز شعرا کے چنندہ اشعار کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا۔ جناب میر ایوب علی خان نے جو اس وقت دفتر تعلقات عامہ سے وابستہ تھے ، موضوعاتی کیلنڈر کی اشاعت کا آغاز خطاطی کے نمونوں کے ذریعہ کیا تھا۔ اُردو یونیورسٹی کی تعلقات عامہ کی ٹیم کے ایک اور رکن و شعبہ صحافت نظامت فاصلاتی تعلیم کے اسسٹنٹ پروفیسر جناب شمس عمران کا کہنا ہے کہ عام طور پر اردو زبان کو ایک مخصوص فرقے کی مادری زبان یا پھر ماضی کی ایک شاندار ثقافتی روایت کے طور پر ہی دیکھا جاتا ہے ۔وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اسلم پرویز پی آر ٹیم کی ان کوششوں کی ہمیشہ سرپرستی کرتے رہے ہیں۔ ان کے خیال میں یونیورسٹی کے موضوعاتی کیلنڈر نہ صرف ادارے کی تشہیر کا ذریعہ ہیں بلکہ یہ غیر اردو داں حلقے کو اردو سے متعارف کرنے کا ایک بہترین وسیلہ بھی ہیں۔ اردو زبان کا فروغ اردو یونیورسٹی کے منشور کا حصہ ہے ۔ گاندھی جی اور پنڈت نہرو کی اردو تحریروں کی نظر نوازی سے بہتر نئے سال کی شروعات اور کیا ہوسکتی ہے ؟ مانو کا نیا کیلنڈر پہلی مرتبہ فروخت کے لیے بھی رکھا گیا ہے ۔ اسے یونیورسٹی کے نظامت ترجمہ و اشاعت کے سیلس کاؤنٹر سے 30 روپئے میں حاصل کیا جاسکتا ہے ۔