مہاراشٹرا پولیس انتہائی پروفیشنل ، کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی، صحافیوں کو بھی غلطی کی سزا ملنی چاہئے: سنجے راوت
ممبئی: ری پبلک ٹی وی ایڈیٹر انچیف اربن گوسوامی کی گرفتاری کے بعد شیوسینا کے قائد سنجے راوت نے کہا کہ مہاراشٹرا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد کسی کے بھی خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت یا کوئی بھی سیاسی پارٹی میں گرفتاری کے پس پردہ کارفرما نہیں ہے۔ دوسری طرف مہاراشٹرا کے وزیر اور این سی پی قائد نواب ملک نے ارنب گوسوامی کی گرفتاری کو انڈیاس موسٹ وانٹیڈ کا پارٹ 2 قرار دیا ۔ یاد رہے کہ ممبئی میں چہارشنبہ کی صبح رائے گڑھ پولیس نے ارنب سوامی کو گرفتار کیا ۔ پولیس نے ارنب پر 2018 ء میں ایک 53 سالہ خاتون کو خودکشی پر اکسانے کا الزام عائد کیا ہے جو ایک انٹیریئر ڈیزائنر تھی۔ سنجے راوت سے جب اخباری نمائندوں نے ارنب سوامی کی گرفتاری کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹرا میں قانون کی پوری پوری پاسداری کی جاتی ہے ۔ اگر پولیس کے پاس کسی کے خلاف ثبوت ہے تو وہ کارروائی کرسکتی ہے ۔ ریاستی حکومت نے انتقامی طور پر کوئی اقدام نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹرا میں نراج کا وجود نہیں ہے اور ملک کے قانون پر دیانتدارانہ عمل آوری کی جاتی ہے ۔ ممبئی پولیس انتہائی پروفیشنل ہے ۔ میڈیا کیلئے یہ کوئی یوم سیاہ نہیں ہے ۔ صحافیوں کو صحتمند اقدار کی پیروی کرنا چاہئے اور اگر کوئی غلطی کرتا ہے تو اسے سزا بھی ملنی چاہئے ۔ میڈیا کوئی تحقیقاتی ایجنسی یا عدالت نہیں ہے ۔ یہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا خیال ہے ۔ ہم سب صحافی ہیں اور اگر کوئی غلطی کرتا ہے تو اسے پولیس کی جانب سے سزا بھی ملنی چاہئے۔ دریں اثناء بی جے پی کے ریاستی یونٹ کے سربراہ چندرکانت پاٹل نے یہ کہہ کر ارنب گوسوامی کی گرفتاری کی مذمت کی کہ اس طرح مہاراشٹرا حکومت ، کانگریس اور اس کی قیادت کے خلاف بولنے والے ارنب گوسوامی کی آواز وبائی جارہی ہے۔ ناگپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ارنب کی گرفتاری کو جمہوریت اور آزادیٔ اظہار خیال کا قتل قرار دیا ۔ خودکشی معاملہ کے کیس کو دوبارہ کھولے جانے کا واحد مقصد ارنب گوسوامی کی آواز کو دبانا ہے۔ مسٹر پاٹل نے کہا کہ بی جے پی اور ملک کے عوام ارنب گوسوامی کی گرفتاری کو برداشت نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے زمانے میں بھی آزادیٔ اظہار خیال کو دبانے کی کوشش کی گئی تھی جس کا خمیازہ اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کو انتخابات میں شکست فاش کی صورت میں بھگتنا پڑا تھا۔
