اروناچل کی حدود میں چینی گاؤں ، حکومت نے تردید کردی

   

Ferty9 Clinic

چین کی جانب سے پاکستانی بحریہ کو مستحکم کیا جارہا ہے، پنٹگان کی رپورٹ

حیدرآباد۔10۔ نومبر(سیاست نیوز) چین کی جانب سے پاکستانی بحریہ کو مستحکم کرنے اور بحرہ ہند میں ہند۔پاک دفاعی قوت کو یکساں کرنے کے لئے انتہائی عصری ٹکنالوجی سے آراستہ پی این ایس طغرل نامی بحری جہاز پاکستان کے حوالہ کئے جانے کی خبروں کے دوران اس خبر کی تردید کی جانے لگی ہے کہ چین نے ہندستان کی سرحد میں اپنے گاؤں بسائے ہیں۔ گذشتہ دنوں امریکی دفاعی ادارہ پنٹگان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا تھا کہ چین ہندستان میں اپنی بستیاں بسا رہا ہے اور اس رپورٹ کے انکشاف کے ساتھ ہی حکومت ہند سے استفسارات کئے جانے لگے تھے لیکن گذشتہ یوم دو خبریں یکساں طور پر منظر عام پرآئی ہیں جن میں پاکستانی بحری بیڑہ کو چین کی جانب سے انتہائی عصری جنگی جہاز فراہم کئے جانے کی خبر آئی ہے جس کا نام پی این ایس طغرل رکھا گیا ہے اور پاکستانی بحری بیڑہ کے حکام کا کہناہے کہ بحرہ ہند میں ہندستانی بحریہ کی دفاعی قوت کے برابر قوت کو یقینی بنانے کے لئے اس جنگی جہاز کو بحر ہند میں تعینات کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔چین کی جانب سے پاکستان کو فراہم کئے جانے والے اس جنگی جہاز کو پاکستانی بحریہ میں کمیشن کئے جانے کے ساتھ ہی ایک اور خبر سامنے آئی ہے جس میں پنٹگان کی جانب سے کئے جانے والے دعوے کی تردید کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ پنٹگان نے چین کی جانب سے گاؤں بسانے کی جو تصاویر جاری کی ہیں وہ چین کے خطہ میں بسائے گئے گاؤں کی ہی ہیں۔ذرائع کے مطابق امریکہ کے محکمہ ملٹری اینڈ سیکیوریٹی ڈیولپمنٹ کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر اس گاؤں کی ہیں جو گذشتہ 6دہائیوں سے متنازعہ ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ہندستانی دفاعی حکام کی جانب سے اس رپورٹ کے بعد ایل اے سی کا جائزہ لیتے ہوئے یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اروناچل پردیش کے ضلع سبنسری کے بالائی حصہ میں موجود گاؤں جس پر چین کا 6دہائیوں سے قبضہ ہے وہاں گاؤں بسایا گیا ہے جو کہ ایل اے سی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہے۔بتایاجاتا ہے کہ چین کی جانب سے پاکستانی بحریہ میں انتہائی عصری جنگی جہاز کو حوالے کئے جانے کی خبروں کے ساتھ ایل اے سی اور ہندستانی سرحد میں چین کے گاؤں بسائے جانے کی اطلاعات کی بالواسطہ تردید کیا جانا ماہرین کیلئے ناقابل یقین ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پنٹگان نے ہندستانی سرحدوں میں گاؤں بسائے جانے کی اطلاعات فراہم کی ہیں اور اس سلسلہ میں جاری کردہ رپورٹ میں جو انکشافات کئے ہیں اس پر حکومت کو فوری طور پر ردعمل ظاہر کرنا چاہئے تھا لیکن ایسا کرنے کے بجائے یہ تاثر دیا جارہاہے کہ ہندستانی سرحد پر چین نے کوئی چھیڑ چھاڑنہیں کی ہے بلکہ اس خطہ میں آبادیاں بسائی گئی ہیں جو کہ متنازعہ خطہ رہا ہے ۔ماہرین کا کہناہے کہ اگر ایسا بھی کیا گیا ہے تو سرحد کے قریب شہری آبادی کو بسانے کی وجوہات کا جائزہ لیا جانا چاہئے کیونکہ چین نہ صرف سرحد کے قریب آبادی بسارہا ہے بلکہ دوسری جانب پاکستانی بحری افواج کو بھی عصری ٹکنالوجی سے لیس کررہا ہے۔