حکم التواء معاملات کی عنقریب سماعت، سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل آوری کی تیاریاں
حیدرآباد۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک غیر معمولی فیصلہ میں موجودہ و سابق ارکان اسمبلی سے متعلق مقدمات کی سماعت کرنے والی تین عدالتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے مقدمات کی تیزی سے یکسوئی کردیں۔ ہائی کورٹ کے ان احکامات سے سیاسی حلقوں میں ہلچل دیکھی جارہی ہے۔ ارکان اسمبلی اور سابق ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمات کے سلسلہ میں ہائی کورٹ نے جو حکم التواء جاری کیا ہے ایسے تمام معاملات کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے چیف جسٹس ہائی کورٹ راگھویندر سنگھ چوہان ایک علحدہ بنچ تشکیل دیں گے۔ ان معاملات کی یکسوئی کی صورت میں ٹرائیل کورٹس، سی بی آئی، اے سی بی پرنسپل جج کورٹ اور حیدرآباد کی اسپیشل کورٹ کو مقدمات کو تیزی سے نمٹنے میں سہولت ہوگی۔ سپریم کورٹ نے 16 اکٹوبر کو احکامات جاری کرکے ارکان اسمبلی اور سابق ارکان اسمبلی کے مقدمات کی ترجیحی بنیادوں پر تیزی سے یکسوئی کی ہدایت دی تھی۔ان احکامات کی روشنی میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے تحت کی عدالتوں کو ہدایات جاری کی ہیں۔ توقع ہے کہ اندرون ایک ہفتہ اس معاملہ میں اہم پیشرفت ہوگی۔ تلنگانہ میں موجودہ اور سابق ارکان مقننہ کے خلاف 118 کیس درج ہیں جن کی حیدرآباد کی خصوصی عدالت میں سماعت جاری ہے۔
ان میں سے بیشتر کیسس آئی پی سی دفعات اور ریلوے ایکٹ کی خلاف ورزیوں جیسے معاملات پر مشتمل ہیں۔ علحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران احتجاج اور ریل روکو میں حصہ لینے کے سبب تلنگانہ کے کئی قائدین کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ ٹی آر ایس ان تمام مقدمات کے خاتمہ میں دلچسپی رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ احکامات کی روشنی میں امکان ہے کہ حکومت مقدمات سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے سرکاری احکامات جاری کرے گی۔ کئی مقدمات میں موجودہ وزارت میں شامل بعض افراد ماخوذ ہیں۔ سی بی آئی اور اے سی بی نے 25 ارکان مقننہ کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش جگن موہن ریڈی کے خلاف سی بی آئی و رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی کے خلاف اے سی بی کا مقدمہ زیر دوران ہے ۔ آندھرا پردیش کے وزیر ایم وینکٹ رمنا اور تلنگانہ کی وزیر سبیتا اندرا ریڈی کے خلاف بھی مقدمات ہیں۔ نوٹ برائے ووٹ معاملہ میں اے سی بی نے ریونت ریڈی کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے 14 معاملات میں حکم التواء جاری کیا ہے جس کے نتیجہ میں مقدمات کی یکسوئی میں تاخیر ہورہی ہے۔ 25 کے منجملہ 17 کیسس سی بی آئی، 6 اے سی بی کورٹ اور ایک مقدمہ میٹرو پولیٹن سیشن جج کورٹ حیدرآباد کے تحت ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی تکمیل کرتے ہوئے چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ عنقریب حکم التواء سے متعلق معاملات کی سماعت کرسکتے ہیں۔