نوجوانوں کی اکثریت سیاستدانوں کی موقع پرستی سے نالاں
حیدرآباد ۔ 14 ۔ جنوری (سیاست نیوز) نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر نوجوانوں کی توانائیوں کو ملک و قوم کی تعمیر میں استعمال کیا جائے تو اس کے بے شمار فوئد و ثمرات حاصل ہوتے ہیں لیکن اگر نوجوان نسل میں منفی سوچ و فکر فرقہ ورانہ تعصب و جانبداری علاقائی عصبیت کا زہر گھولا جائے تو یہ ملک و قوم کیلئے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں ایک طرف فرقہ پرست و فاشسٹ طاقتیں نوجوان نسل کے ذہنوں میں فرقہ پرستی تعصب وجانبداری کی گندگی بھرنے میں مصروف ہے تو دوسری طرف وہ محب وطن ہندوستانی بھی ہیں جو نوجوان نسل کوا یک ایسے سانچے میں ڈھالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جس سے ملک اور قوم کا فائدہ ہو ۔ اس کی ترقی و خوشحالی یقینی بنے۔ یہاں اس بات کا تد کرہ ضروری ہوگا کہ ہمارے ملک میں 1985 ء سے ہر سال 12 جنوری کو نوجوانوں کا قومی دن منایا جاتا ہے ۔ یہ سال اس لحاظ سے کافی اہمیت کا حامل رہا کیونکہ اب ہمارا ملک فرقہ پرستوں اور محب وطن ہندوستانیوں میں بٹ گیا ہے ۔ جہاں تک نوجوانوں کا سوال ہے ان میں خاص طور پر سیاستدانوں کو لیکر کافی شعور جاگ ا ٹھا ہے ۔ یہ نوجوان اچھی طرح جان چکے ہیں کہ سیاستدانوں کو تعلیم یافتہ ، خدمت خلق کے جذبہ کا حامل تعصب و جانبداری سے پاک اور صاف ستھری امیج رکھنے والا ہونا چاہئے ۔ آج کے نوجوانوں کے خیال میں سیاستداں چاہے وہ ہندو ہو یا مسلم انہیں صرف اپنی اور اپنی اولاد کے مفادات کی فکر لاحق ہوتی ہے ۔ انہیں صرف اپنی تجوریاں بھر نے اور دولت میں اضافہ کی لگن رہتی ہے ، ایک بات ضرور ہے کہ ان سیاستدانوں کی زبانیں ملک قوم و ملت کی ترقی کے دعوؤں سے نہیں سوکھتی ۔ نوجوانوں کے خیال میں ایسے بے شمار سیاستداں ہیں جو اپنی عیاری و مکاری سے معاشرہ میں ایک مقام بنالیتے ہیں اور غرور و تکبر کی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور وہ خود کو اعلیٰ اور دوسروں کو ادنیٰ تصور کرتے ہیں۔ بہرحال اب نوجوان اس قسم کے سیاستدانوں کو اچھی طرح جان چکے ہیں ۔ اس معاملہ میں سوشیل میڈیا کا رول بہت اہم رہا ، اس کے ذریعہ بآسانی پتہ مل جاتا ہے کہ کونسا سیاستداں صرف ٹوئیٹر انسٹاگرام ، فیس بک وغیرہ پر زیادہ سرگرم ہے اور کونسا سیاستداں حقیقت میں عوام کا خدمت گزار ہے۔ نوجوانوں کے قومی دن کی مناسبت سے ٹائمز آف انڈیا نے 6 حیدرآبادی نوجوانوں سے بات کی ۔ ان میں 18 سالہ کے رحمانی ، 20 سالہ عبدالسمیع ، 18 سالہ رعیض علی ، 19 سالہ ادیتی چندرا ، 20 سالہ گارگی منڈل اور 19 سالہ میگھنا شامل ہیں۔ خالد رحمانی (کے رحمانی) شہر کے ایک کالج سے BBA کر رہے ہیں۔ اس نوجوان نے ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم کی تخلیق کی ہے۔ یہ پلیٹ فارم ان لوگوں کے لئے بہت فائدہ بخش ثابت ہوگا جو اپنے مسائل کے حل کیلئے کسی رکن پارلیمنٹ سے ملاقات کے خواہاں ہو اس سلسلہ میں MP Connect موبائیل اپلیکشن ایک اچھا آئیڈیا ہوسکتا ہے۔ خالد رحمانی کے مطابق آج ہماری زندگیاں سیاست سے جڑی ہوئی ہیں ، چاہے وہ اپنے محلہ کی روڈ کی تعمیر کا معاملہ ہو یا روزگار کی تلاش، رحمانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کا مقصد اس اپلیکشن کے ذریعہ سیاستدانوں اور عام لوگوں کے درمیان خلیج کو باٹنا ہے‘‘۔ یہ ایپ چند سال قبل ڈیزائین کیا گیا لیکن خالد رحمانی نے حال ہی میں اس اپلیکشن کو اپ ڈیٹ کر کے جاری کیا اور جو موجودہ حالات سے خاص تعلق رکھتا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ یہ خالد رحمانی کا تیار کردہ کوئی پہلا ایپ نہیں ہے ۔ سال 2019 ء کے عام انتخابات کے دوران انہوں نے www.laksabhaelection.com نامی ویب سائیٹ بنایا تاکہ رائے دہندوں کو انتخابی نتائج کا جائزہ لینے میں مدد مل سکے ۔ اس کام میں خالد رحمانی کی مدد ان کے والد اور چچا نے کی لیکن آئیڈیا خالد کا ہی تھا ۔ دوسری طرف عبدالسمیع مانتے ہیں کہ نوجوان ملک کی ترقی کیلئے ایک بڑا سرمایہ ہوتے ہیں ۔ بی ایس سی (بائیو ٹکنالوجی) کے اس طالب علم کے خیال میں طلاق ثلاثہ بل ، آرٹیکل 370 کی منسوخی اور ہجومی تشدد ملک کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔ وہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہروں میں حصہ بھی لیتے ہیں۔ وہ یہی کہتے ہیں کہ ان کی عمر کے نوجوان مذہبی خطوط پر نہیں سوچتے۔