ارکان پارلیمنٹ کو قومی مفاد پر متحد ہونے کی ضرورت

   

’وکست بھارت‘ کیلئے اپنا رول ادا کریں، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے صدر جمہوریہ مرمو کا خطاب

نئی دہلی، 28 جنوری(یو این آئی) صدرِ جمہوریہ ہند دروپدی مرمو نے اراکینِ پارلیمنٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر وکست بھارت جیسے قومی مفاد کے امور پر متحد ہوں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔چہارشنبہ کے روز یہاں بجٹ اجلاس کے پہلے دن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں مرمو نے کہا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے فطری ہے لیکن کچھ امور ایسے ہیں جو اختلافات سے بالاتر ہیں اس لیے تمام اراکین کو قومی مفاد سے متعلق امور پر اتفاقِ رائے کے ساتھ ملک کی ترقی میں شراکت دار بننا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ وکست بھارت کا عزم، ملک کی سلامتی، خود انحصاری، سوَدیشی مہم، قومی یکجہتی کی کوششیں اور صفائی ستھرائی جیسے قومی مفاد سے متعلق امور پر اراکینِ پارلیمان کا متفق ہونا ضروری ہے ۔ صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ مختلف آرا اور الگ الگ نظریات کے درمیان یہ بات سب تسلیم کرتے ہیں کہ ملک سے بڑا کچھ نہیں ۔ مہاتما گاندھی، نہرو جی، بابا صاحب، سردار پٹیل، جے پی جی ، لوہیا جی، پنڈت دین دیال اپادھیائے ، اٹل جی ،سب کا یہی نظریہ تھا کہ جمہوریت میں بعض امور پر اختلاف فطری ہے ، لیکن کچھ امور اختلاف سے بالاتر ہوتے ہیں۔ وکست بھارت کا عزم، ہندوستان کی سلامتی، خود انحصاری، سوَدیشی مہم، یکجہتی کی کوششیں اور صفائی ستھرائی جیسے قومی امور پر اراکینِ پارلیمان کو لازمی طور پر متحد ہونا چاہیے ۔ آئین کی روح کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے آئین کی روح بھی یہی ہے ۔ اسی لیے آج میں آپ سب سے گزارش کرتی ہوں کہ ہر رکنِ پارلیمان قومی مفاد سے متعلق امور پر اتفاقِ رائے کے ساتھ گفتگو کرے ، ملک کی ترقی میں شامل ہو اور ترقی کے سفر میں نئی توانائی بھرے ۔ مرمو نے کہا کہ وکست بھارت کا ہدف کسی ایک حکومت یا ایک نسل تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل سفر ہے ، جس میں سب کی کوششوں اور تسلسل کی اہمیت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک مستقبل کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے اور آج کیے گئے فیصلوں کے اثرات آنے والے برسوں میں نظر آئیں گے ۔ وکست بھارت کا مقصد کسی ایک حکومت یا ایک نسل تک محدود نہیں ہے ۔ یہ ایک مسلسل سفر ہے ، جس میں ہم سب کی کوششیں، نظم و ضبط اور تسلسل نہایت اہم ہیں۔
آنے والے وقت میں ملک کی ترقی ہمارے اجتماعی عزم سے ہی ممکن ہوگی۔”

صدرِ جمہوریہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ پارلیمنٹ، حکومت اور عوام تینوں مل کروکست بھارت کے عزم کو پورا کریں گے ۔

انہوں نے کہا “ہم سب ہندوستانی ، قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے آئینی اقدار کے ساتھ آگے بڑھیں گے ۔ تمام شہری اپنے فرائض کی ادائیگی قومی مفاد اور قومی فلاح کے لیے کریں گے ۔”